سفرنامہ فلسطین
Urdu book, p. 139
By Maulana Wahiduddin Khan
(آو امن کی روش اختیار کریں آو امن کی روش اختیار کریں۔ کیونکہ امن ہی رشد و کامیابی کا راستہ ہے) ایک عرب عالم سے جہاد (معنی قتال) کے موضوع پر گفتگو ہوئی۔ گفتگو کے دوران انہوں نے کہا کہ قرآن میں جنگ کا حکم اسلام کی اشاعت کے لیے دیا گیا ہے۔ میں نے کہا کہ یہ بات صحیح نہیں۔ قرآن میں کہیں یہ نہیں لکھا ہے کہ جنگ کر کے اسلام کی اشاعت کرو۔ قرآن میں صرف یہ ہے کہ فتنہ کو ختم کرنے کے لیے ان سے جنگ کرو (2:193)۔ اس آیت میں فتنہ سے مراد مذہبی جبر (religious persecution) ہے۔ جب مذہبی جبر ختم ہو جائے تو جنگ کا حکم اپنے آپ ساقط ہو جاتا ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے نماز کے لیے تیمم کی اجازت دی جائے جب کہ پانی نہ ہو۔ پھر جب پانی آ جائے تو اپنے آپ تیمم کی اجازت ختم ہو جائے گی۔ آب آید تیمم برخاست۔ میں نے کہا کہ بخاری میں یہ روایت ہے کہ فتنہ ابن الزبیر کے زمانہ میں کچھ مسلمانوں نے اپنی اس جنگ کے لیے قتال برائے ختم فتنہ کی آیت کو استعمال کیا تو اس وقت حضرت عبداللہ بن عمر نے اس کی تردید کی۔ انہوں نے کہا کہ فتنہ کو اصحاب رسول نے جنگ کر کے ختم کر دیا (قَدْ فَعَلْنَا) اور جب فتنہ ختم ہو گیا تو اب جنگ کس لیے (صحیح البخاری، حدیث نمبر 4650)۔ میں نے کہا حضرت عبداللہ بن عمر کے اس قول کے مطابق خلافت راشدہ کے بعد ہی اس فتنہ (مذہبی جبر) کا خاتمہ ہو گیا جس کے خلاف جنگ کا حکم دیا گیا تھا اور جب مذہبی جبر ختم ہو جائے تو اس کے بعد پر امن دعوت اسلام کا زمانہ آ جاتا ہے نہ کہ غیر ضروری طور پر متشددانہ جنگ کا۔ حقیقت یہ ہے کہ خلافت راشدہ کے بعد مسلمانوں نے دنیا کے مختلف حصوں میں جو لڑائیاں کی ہیں وہ ملک گیری کی لڑائیاں تھیں، نہ کہ حقیقتاً معنوں میں جہاد فی سبیل اللہ۔ 29 اگست 1995ء کی صبح کو دوبارہ اپنے چند ساتھیوں کے ہمراہ مسجد اقصی اور بیت المقدس کی زیارت کے لیے روانہ ہوا۔ میرے ساتھ ایک مسلمان اور دو مسیحی تھے۔ ہم لوگ ایک گیٹ پر پہنچے۔ وہاں اسرائیلی پولیس کے دو آدمی تھے۔ انہوں نے عربی اخلاق کے مطابق گفتگو کی۔ مرحبا، صاحب الخیر، اھلاً وسھلاً جیسے کلمات سے ہمارا استقبال کیا۔ مگر انہوں نے کہا کہ اس گیٹ سے صرف مسلم جا سکتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader