سفرنامہ فلسطین
Urdu book, p. 140
By Maulana Wahiduddin Khan
آپ کے مسیحی دوست کو سیاحوں والے گیٹ سے داخلہ ملے گا۔ ہم لوگ چلتے ہوئے دوسرے گیٹ پر پہنچے تو وہاں بھی پولیس کے دو آدمی تھے اور انہوں نے بھی دوبارہ یہی جواب دیا۔ پھر ہم لوگ روانہ ہو کر تیسرے گیٹ پر پہنچے وہاں بھی ہم کو یہی جواب دیا گیا۔ آخر کار ہم چوتھے دروازے پر(دیوار گریہ کے قریب) پہنچے۔ وہاں سب کو بیک وقت داخلہ دیا گیا۔ ڈاکٹر محمد امین اسماعیلٰی (المغرب) نے کہا: القضية كلها مادية۔ چونکہ مسلمانوں کے لیے داخلہ فری ہے۔ مگر غیر مسلم سیاحوں کو داخلہ کے لیے ٹکٹ لینا پڑتا ہے، اس لیے ان کے داخلہ کے لیے ایک گیٹ مخصوص کر دیا گیا ہے۔ جہاں تک مسلمان کا تعلق ہے، وہ کسی بھی دروازہ سے بغیر ٹکٹ داخل ہو سکتے ہیں۔ آج میں دوسری بار مسجد اقصیٰ میں داخل ہوا اور دو رکعت نماز ادا کی۔ اس وقت اسرائیل کے اعتبار سے 9 بجے صبح کا وقت تھا اور ہندوستان کے لحاظ سے ساڑھے گیارہ بجے کا۔ نماز پڑھتے ہوئے دل بھر آیا۔ سجدہ میں روتے ہوئے دعا کے یہ الفاظ نکلے کہ خدایا! زمانہ کا فرق تیرے نزدیک کوئی فرق نہیں۔ تو میرے لیے زمانی دوری کو ختم کر دے۔ مجھ کو اس مقدس جماعت کی صفوں میں شریک کر دے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہاں امامت کر رہے تھے اور ان کے پیچھے انبیاء صف باندھ کر نماز ادا کر رہے تھے۔ اس کے بعد ہم لوگ بیت المقدس (قبة الصخرہ) میں داخل ہوئے۔ اس کا سنہری گنبد اس وقت سورج کی روشنی میں نہایت شان کے ساتھ چمک رہا تھا۔ وہاں بھی دور کعت نماز ادا کی اور اپنے لیے اور دوسرے لوگوں کے لیے دعائیں کیں۔ شیخ الازہر جاد الحق علی جاد الحق نے اپنی ایک تقریر میں کہا تھا کہ میں نے کبھی بھی قدس جانے کے لیے نہیں سوچا جب کہ وہ اسرائیلی قبضہ کے تحت ہو۔ اللہ کے حکم سے میں اس کی آزادی کے بعد وہاں جاؤں گا(لم افکر ابدًا فى زيارة القدس وهي تحت الاحتلال الاسرائيلي۔ و سوف ازورها باذن الله بعد تحريرها) الدعوة، الرياض، العدد 1477ھ، 26 جنوری 1995ء، صفحہ 25 مگر شیخ جاد الحق علی جاد الحق 79 سال کی عمر میں 15 مارچ 1996ء کو قاہرہ میں انتقال کر گئے۔ اور وہ قدس کی زیارت نہ کر سکے۔ اس سفر کے دوران میں نے جب مسجد اقصیٰ میں نماز پڑھی اور وہاں غیر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader