سفرنامہ فلسطین
Urdu book, p. 141
By Maulana Wahiduddin Khan
معمولی کیفیات کا تجربہ کیا جو کسی بھی دوسرے مقام پر ممکن نہیں، تو میں نے سوچا کہ شیخ الازہر کا فیصلہ کوئی صحیح فیصلہ نہیں تھا۔ دینی رزق کے حصول میں سیاسی قبضہ کو مانع بنانا سنت رسول کے خلاف ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ میں نماز پڑھی جب کہ وہ مشرکین کے قبضہ میں تھا۔ اسی طرح آپ نے سفر معراج میں مسجد اقصی میں نماز ادا کیا۔ حالانکہ اس وقت اس پر ایران کے مشترک بادشاہ کی حکومت قائم تھی۔ شاید لوگوں کو روحانی یافت کی قیمت نہیں معلوم ، اس لیے وہ سیاسی قضیوں کو غلو آمیز اہمیت دے کر اپنے آپ کو اس نعمت سے محروم کیے ہوئے ہیں۔ (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو، فکر اسلامی کا باب ، الفصل بین القضيتين )۔ موجودہ زمانہ میں بین الاقوامی طور پر مسلمہ قانون کے تحت ہر آدمی کو یہ آزادی ہے کہ وہ جہاں چاہے جائے مگر مذکورہ غلط پالیسی کی بنا پر ساری دنیا کے مسلمانوں نے یروشلم کا سفر ترک کر رکھا ہے۔ اس کا بھیانک نتیجہ یہ ہوا ہے کہ مسلمانوں کو یروشلم اور اسرائیل کے حقیقی حالات کا سرے سے پتہ ہی نہیں۔ ساری دنیا کے مسلمان ایک ایسے دشمن کے خلاف لڑائی چھیڑے ہوئے ہیں جس کے بارے میں خود ساختہ پروپیگنڈوں کے سوا انہیں کچھ اور نہیں معلوم۔ حتیٰ کہ آمد و رفت نہ ہونے کے نتیجہ میں انہیں یہ بھی نہیں معلوم کہ قدس کیا ہے اور مسجد اقصی کیا ہے۔ دنیا کے تقریباً 99 فیصد مسلمان قدس ہی کو مسجد اقصی سمجھتے ہیں۔ جب کہ دونوں نہ صرف یہ کہ ایک دوسرے سے الگ ہیں بلکہ ان کی نوعیت بھی ایک دوسرے سے مکمل طور پر مختلف ہے۔ ایک فلسطینی نوجوان نے فلسطین کی آزادی کی تحریک کے لیے تطهير القدس من أبناء القردة والخنازير کے الفاظ استعمال کیے۔ یعنی قدس کو بندروں اور سوروں کی اولاد سے پاک کرنا۔ میں نے کہا کہ خدا کے فیصلہ کے تحت رسول اور اصحاب رسول نے یہود و نصاریٰ کو جزیرہ عرب سے نکالا۔ مگر اس کے لیے انہوں نے آپ جیسے الفاظ استعمال نہیں کیے۔ رسول اللہ نے سادہ طور پر فرمایا: أَخْرِجُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ (مسند البزار، حدیث نمبر 230)۔ اور آپ لوگ رسول کی اتباع کے نام پر اس قسم کی غیر شرعی اور غیر اخلاقی زبان استعمال کر رہے ہیں۔ حیدر آباد کے ایک صاحب مرزا مشکور بیگ اپنے کسی کام کے تحت اسرائیل میں مقیم ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader