سفرنامہ فلسطین
Urdu book, p. 142
By Maulana Wahiduddin Khan
انہوں نے اپنے کچھ تاثرات حیدر آباد کے روزنامہ سیاست (5 نومبر 1995ء) میں چھپوائے ہیں۔ اس کا ایک جز یہ ہے: اسرائیل کے ہر باشندہ کو 18 سال کی عمر ہوتے ہی ریوالور رکھنے کی اجازت ہو جاتی ہے۔ جس طرح ہمارے حیدر آباد میں ہر گلی میں ایک’’شیر‘‘ہوتا ہے جو گلے کے بٹن کھلے رکھ کر سینہ تان کر صرف کمزوروں کو دباتا ہے جس کو حیدر آبادی زبان میں’’ابوشیر‘‘ کہتے ہیں۔ وہ یہاں نہیں ہے کیوں کہ ہر ایک مسلح ہے۔ کمزور بھی اور طاقت ور بھی۔ اور دونوں ایک دوسرے سے ڈرے ہوئے ہیں۔ یہ صحیح ہے کہ اسرائیل میں ہر یہودی کو قانونی طور پر ریوالور رکھنے کی عام اجازت ہے مگر یہ لوگ اس کو صرف غیروں پر استعمال کرتے ہیں، نہ کہ اپنے لوگوں پر۔ لیکن مذکورہ بیان کے مطابق، اس چیک کی وجہ یہ نہیں ہے کہ ہر ایک کے پاس ہتھیار ہے۔ اگر ہر ایک کے پاس ہتھیار ہونا چیک بن جاتا ہو تو کراچی اور افغانستان میں واقعہ کیوں نہیں پیش آیا، جہاں ہر ایک کے پاس ہتھیار ہونا باہمی خانہ جنگی کا سبب بن گیا۔ اصل یہ ہے کہ یہودی ایک تعلیم یافتہ اور باشعور قوم ہیں۔ ان کی یہی صفت اس بات کے لیے روک بن گئی ہے کہ ایک یہودی اپنا ہتھیار دوسرے یہودی کے خلاف استعمال نہ کرے ۔ یہاں کا ایک قابل ذکر واقعہ یہ ہے کہ 1969ء میں ساری دنیا کے یہودیوں نے چندہ جمع کیا تھا تا کہ یروشلم میں ایک بہت بڑا سیناگگ تعمیر کیا جائے۔ یہ رقم ایک بلین امریکی ڈالر پر مشتمل تھی۔ یہ پوری رقم چیف ربائی کی خدمت میں پیش کی گئی۔ لیکن چیف ربائی نے عبادت کی تجویز کو رد کرتے ہوئے کہا: خدا ساری دنیا کا مالک ہے۔ ساری شان وشوکت اسی کے لیے ہے۔ ہم کون ہوتے ہیں اس کے لیے ایک بلین ڈالر کی رقم کا محل تعمیر کرنے والے۔ اس کی بندگی تو ہر جگہ سوتے جاگتے کی جاسکتی ہے۔ خدا کو جاننے کے لیے علم ضروری ہے۔ جاؤ اس رقم سے ایک تعلیمی ٹرسٹ بناؤ تا کہ کوئی یہودی بے علم نہ رہے ۔ اس طرح دنیا کا سب سے بڑا تعلیمی ٹرسٹ 1970ء میں اسرائیل میں وجود میں آیا۔ اسرائیل میں یہ کہا جاتا ہے کہ خدا کے بعد سب سے بڑا درجہ تعلیم کا ہے۔ یہاں تعلیم کو ہوا اور پانی کی طرح فری کر دیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں ہر فرد اعلیٰ تعلیم یافتہ ہے۔ یروشلم موجودہ زمانہ میں یہودیوں کا مرکز ہے۔ یہاں بہت سے یہودیوں سے ملاقات ہوئی اور

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader