سفرنامہ فلسطین
Urdu book, p. 143
By Maulana Wahiduddin Khan
ان سے باتیں ہوئیں ۔ میرا احساس یہ تھا کہ یہودی کوئی غیر انسانی مخلوق نہیں ہیں۔ وہ بھی اسی طرح انسان ہیں جس طرح دوسرے سے انسان ہیں۔ وہ بھی اپنے اندر ایک فطرت رکھتے ہیں۔ اسی طرح موجودہ اختلافی زمانہ میں بھی بہت سے یہودی مسلمان ہوئے ہیں۔ اس سلسلے میں ایک تازہ مثال پاکستان کے مشہور کھلاڑی عمران خان کی بیوی جمائما کی ہے ۔ وہ لندن کے ایک یہودی خاندان میں پیدا ہوئیں ۔ مگر اسلام کی تعلیمات نے انہیں متاثر کیا۔ انہوں نے اسلام قبول کر لیا۔ اس وقت وہ پاکستان میں رہ رہی ہیں۔ اور اب ان کا لباس قمیض اور شلوار اور دوپٹہ ہے۔ یہودیوں سے گفتگو کے دوران محسوس ہوا کہ ان کے بھی مفادات ہیں، جس طرح ہمارے مفادات ہیں۔ تاہم وہ بھی اسی طرح عقلی دلائل کے آگے جھکتے ہیں جس طرح دوسرے انسان عقلی دلائل سن کر جھک جاتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہودیوں کے سلسلہ میں ہم کو زیادہ فطری نقطۂ نظر اختیار کرنا چاہیے ۔ یعنی ہم انہیں "دشمن" کے روپ میں دیکھنے کے بجائے "مدعو" کے روپ میں دیکھیں اور فطرت کے اسلوب میں انہیں دین حق کا مخاطب بنائیں۔ یروشلم کے چند روزہ قیام کے دوران بہت سے ادارے اور عبادت خانے دیکھنے کا موقع ملا۔ مسلمانوں کے بھی اور غیر مسلموں کے بھی۔ میں نے پایا کہ عیسائی حضرات کے یروشلم میں کثیر تعداد میں بہت بڑے بڑے چرچ ہیں، یہاں ان کے شاندار ادارے ہیں۔ انہوں نے جلسوں اور میٹنگوں کے لیے نہایت عمدہ قسم کے ہال بنا رکھے ہیں۔ مگر جہاں تک میں معلوم کر سکا تو فلسطینی مسلمانوں کے یہاں اس طرح جدید معیار کے اعلیٰ ادارے موجود نہیں۔ اس کی وجہ غالباً دونوں کے مزاج کا فرق ہے۔ عیسائی حضرات تعمیری شعبوں میں اپنے کو مستحکم بنانے میں لگے رہتے ہیں۔ اس کے برعکس، مسلمانوں کے ذہن سیاست اور اقتدار سے اتنا زیادہ ماؤف ہیں کہ وہ یہ سوچ ہی نہیں پاتے کہ یہاں کوئی اور بھی کام ہے جس میں انہیں مشغول ہونا چاہیے۔ یہ دراصل فکری پس ماندگی کی علامت ہے۔ قدیم زمانہ میں سیاسی ادارہ ہی واحد سب سے بڑا ادارہ سمجھا جاتا تھا۔ موجودہ زمانہ میں سیاسی ادارہ نے ثانوی حیثیت حاصل کر لی ہے۔ باشعور قوموں نے اس تبدیلی کو جان کر اس کے مطابق اپنی تعمیر کر لی۔ مگر مسلم رہنما اور دانشور سو سال سے بھی زیادہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader