Urdu book · سفرنامہ اسپین و فلسطین

سفرنامہ فلسطین

Urdu book, p. 144

By Maulana Wahiduddin Khan

عرصہ سے سیاست کی چٹان سے اپنا سر ٹکرا رہے ہیں۔ بے شمار قربانیوں کے باوجود وہ کوئی بھی حقیقی چیز حاصل نہ کر سکے۔ مسلمانوں کے لکھنے اور بولنے والے لوگ اکثر جذباتی انداز میں کہتے ہیں کہ: من للقدس ؟ یعنی کون ہے جو قدس کے لیے کچھ کرے۔ یہ جملہ بظاہر یہ تاثر دیتا ہے جیسے کہ قدس کا میدان خالی پڑا ہوا ہے اور وہاں کوئی کچھ نہیں کر رہا ہے۔ حالانکہ یہ بات صد فیصد بے بنیاد ہے۔ 1948ء میں شیخ حسن البنا نے قاہرہ میں جلوس نکالا جس میں ایک لاکھ مصری شریک تھے۔ اس کا نعرہ تھا: لبیک یا فلسطين (اے فلسطین ہم حاضر ہیں)۔ پھر کئی بار باقاعدہ مسلم فوجوں نے اسرائیل سے جنگ کی۔ اس کے علاوہ فلسطینیوں کی عسکری تنظیمیں ہر روز قربانی دے کر اس محاذ پر لڑائی لڑ رہی ہیں۔ اس کی آخری حد یہ ہے کہ پرجوش فلسطینی اپنے جسم کے ساتھ بم باندھ کر اسرائیلی آبادی میں گھس جاتے ہیں۔ یہ خود کش بمبار خود بھی ہلاک ہوتے ہیں اور بہت سے اسرائیلیوں کو ہلاک کر دیتے ہیں۔ وغیرہ ایسی حالت میں من للقدس کا جذباتی نعرہ سراسر بے معنی ہے۔ اس قسم کے دانشوروں کی غلطی یہ ہے کہ وہ فلسطینی جد و جہد کا نتیجہ نہیں دیکھ رہے ہیں تو سمجھتے ہیں کہ اس محاذ پر جدوجہد بھی نہیں ہو رہی ہے۔ حالانکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ جدوجہد تو سر فروشانہ حد تک جاری ہے۔ مگر عملاً وہ سب کی سب بے نتیجہ ثابت ہو رہی ہے۔ یہ یا قرآنى الفاظ میں، حبط اعمال کا شکار ہو رہی ہیں۔ گویا کہ جو چیز مفقود ہے وہ جدوجہد کا نتیجہ ہے، نہ کہ خود جدوجہد۔ ہندوستان اور اسرائیل کے وقت میں ڈھائی گھنٹہ کا فرق ہے۔ 29 اگست کی صبح کو مقامی وقت کے اعتبار سے آٹھ بجے ہیں۔ میری گھڑی ہندوستان کے اعتبار سے ساڑھے دس بجے کا وقت بتا رہی ہے۔ سورج میلوں تک کے پورے ماحول کو آخری حد تک روشن کیے ہوئے ہے۔ میں اپنے کمرہ میں لگے ہوئے ’’قد دیوار‘‘ شیشوں کے پیچھے کھڑا ہوا باہر شہر قدس کا منظر دیکھ رہا ہوں۔ یہ حضرت داؤد کے محل کے کھنڈر ہیں۔ یہاں حضرت سلیمان کے محل کا کھنڈر تھا۔ یہ بیت المقدس ہے جس کو عبدالملک بن مروان اموی نے بنوایا تھا۔ یہ وہ رومی عدالت ہے جہاں حضرت مسیح کے خلاف فیصلہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page