Urdu book · سفرنامہ اسپین و فلسطین

سفرنامہ فلسطین

Urdu book, p. 145

By Maulana Wahiduddin Khan

سنایا گیا۔ یہ وہ مقام ہے جہاں حضرت مریم کی پیدائش ہوئی۔ یہ مسجد اقصی ہے جہاں پیغمبر اسلام نے تمام نبیوں کے ساتھ باجماعت نماز ادا کی۔ یہ مسجد عمر ہے جہاں فتح فلسطین کے بعد حضرت عمر فاروق نے نماز ادا فرمائی۔ اسی طرح پورے علاقوں میں جگہ جگہ نبیوں کے نام کی تختیاں لگی ہوئی ہیں۔ سبھی مذہبی فرقے ان نبیوں اور بزرگوں کا احترام کرتے ہیں، مگر یہی فرقے آپس میں ایک دوسرے کا احترام کرنے کے لیے تیار نہیں۔ فلسطین کا مسئلہ پچھلے پچاس سال سے پوری مسلم دنیا، خصوصاً عرب دنیا پر چھایا ہوا ہے۔ اس دور کا عرب لٹریچر فلسطین کی باتوں سے پر ہے۔ لکھنے اور بولنے والوں نے نہایت جذباتی انداز میں اس پر طبع آزمائی کی ہے۔ ایک عرب شاعر الزرکلی نے کہا کہ صلاح الدین کو دوبارہ ہمارے درمیان لاؤ اور حطین جیسا معرکہ دوبارہ تازہ کرو: هَاتِ صلاحَ الدّينِ ثانيةً فينا و جَدّدِي حِطّينَ أو شِبْه حِطّينا ایک اور عرب شاعر احمد مطار جو آج کل لندن میں رہتے ہیں، ان کی نظم کے دو شعر یہ ہیں: القدس للدنيا قمر في القدس قد نطق الحجر لا مؤتمر لا مؤتمر أنا لا أريد سوى عمر (قدس دنیا کے لیے چاند ہے۔ قدس میں پتھر بھی بول پڑا۔ مجھے کانفرنس نہیں چاہیے۔ میں تو صرف عمر کو چاہتا ہوں) مگر عملی اعتبار سے دیکھا جائے تو فلسطین کے محاذ پر اب تک کچھ بھی حاصل نہ کیا جا سکا۔ موجودہ زمانہ میں ساری دنیا کے مسلمان امریکہ سے نفرت کرتے ہیں اور اس کو اسلام کا دشمن نمبر ایک کہتے ہیں۔ اس کا سبب، ایک فلسطینی نوجوان کے الفاظ میں یہ ہے کہ امریکی مدد ہی اسرائیل کے وجود و بقاء کا واحد راز ہے (الدعم الأمريكي هو سر استمرار اسرائيل و بقاءها)۔ عجیب بات ہے کہ عین اسی وقت ساری دنیا کے مسلمان امریکہ سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ کوئی براہ راست طور پر اور کوئی بالواسطہ طور پر۔ آج بھی ایک مسلمان یہ کہنے میں فخر محسوس کرتا ہے کہ میں نے امریکہ کا سفر کیا، یا میرا بیٹا امریکہ میں سٹل ہو گیا ہے۔ مزید یہ کہ جو مسلمان امریکہ میں باقاعدہ بس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page