سفرنامہ فلسطین
Urdu book, p. 146
By Maulana Wahiduddin Khan
گئے ہیں، ان کا حال یہ ہے کہ ان کی نئی نسل امریکی شہری ہونے پر فخر کرتی ہے۔ مکہ سے نکلنے والے العالم الاسلامی کی (6 ذوالقعدہ 1416ھ) رپورٹ کے مطابق، امریکہ کے ایک مسلم نوجوان نے کہا کہ مجھے اس پر فخر ہے کہ میں ایک امریکی مسلمان ہوں : I am proud to be an American Muslim یہی دو عملی موجودہ دنیا کے مسلمانوں کی اصل کمزوری ہے۔ جس روش کو اصلی طور پر وہ ماننے کے لیے تیار نہیں، اسی روش کو نہایت اطمینان کے ساتھ ان کے تمام چھوٹے اور بڑے عملاً اختیار کیے ہوئے ہیں۔ عرب علاقہ میں کئی بار جانے کا اتفاق ہوا۔ ایک جگہ کچھ عرب نوجوان آپس میں باتیں کر رہے تھے۔ وہاں کھڑے ہو کر ہم لوگ انہیں دیکھنے لگے۔ پھر میں ایک نوجوان کے قریب گیا۔ گفتگو کے دوران اس نے جو باتیں کہیں، ان میں سے ایک یہ تھی کہ صہیونی مقبوضہ فلسطین کو ایک عظیم قید خانہ میں تبدیل کر رہے ہیں (الصهاينة يحولون فلسطين المحتلة الى سجن كبير)۔ میں نے کہا کہ آپ لوگ یہود کی طاقت کو جانتے ہیں مگر فطرت کی طاقت سے آپ لوگ بے خبر ہیں۔ اگر کوئی یہودی کہے کہ ’’ہم پورے فلسطین کو ایک قید خانہ بنا دیں گے‘‘ تو آپ کو اس کے جواب میں کہنا چاہیے کہ ایک پورے ملک کو قید خانہ بنانا کوئی سادہ بات نہیں، یہ خدا کے مقرر کیے ہوئے نظام فطرت سے لڑنا ہے۔ اور نظام فطرت سے لڑنا نہ کسی منی پاور کے لیے ممکن ہے اور نہ کسی سپر پاور کے لیے۔ دنیا کے کسی بھی حصہ میں کسی بھی مسلمان سے بات کی جائے تو وہ فلسطینی عربوں کے اوپر اسرائیل کے وحشیانہ مظالم کی بات کرے گا۔ بطور واقعہ یہ بات صحیح ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا اس شکایت اور احتجاج کا کوئی نتیجہ ہے۔ میں نے ایک صاحب سے کہا کہ فلسطینی عربوں کا موقف اپنی جگہ پر درست ہے، مگر جب وہ جنگ کی طاقت نہیں رکھتے تو وہ اپنی تحریک متشددانہ انداز پر کیوں چلاتے ہیں ۔ جب کہ بار بار کے تجربہ سے معلوم ہو چکا ہے کہ وہ ایک اسرائیلی بس پر بم مارتے ہیں تو اسرائیل پوری عرب بستی پر بمباری کر کے اس کو تباہ کر دیتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader