Urdu book · سفرنامہ اسپین و فلسطین

سفرنامہ فلسطین

Urdu book, p. 147

By Maulana Wahiduddin Khan

ساؤتھ افریقہ کے صدر یڈنٹ نیلسن منڈیلا (Nelson Mandela) نے فلسطینیوں کی حمایت میں ایک بیان دیا اور حماس کے نمائندوں سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی تو تمام عرب خوش ہو گئے۔ اس کا حوالہ دیتے ہوئے میں نے کہا کہ نیلسن منڈیلا کے ان الفاظ سے زیادہ کار آمد خود ان کا عملی نمونہ ہے۔ ان کو بھی اپنے ملک میں فلسطین جیسے حالات کا سامنا تھا۔ مگر انہوں نے اپنی پوری تحریک پرامن انداز میں چلائی۔ یہاں تک کہ وہ کامیاب ہو گئے۔ میں سمجھتا ہوں کہ فلسطینیوں کو نیلسن کے اس تجربہ سے سبق لینا چاہیے۔ ایک بار میں نے ایک عرب اسکالر کو بتایا کہ میں ایک انٹرنیشنل پیس کانفرنس میں جانے والا ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ یہ پیس کانفرنسیں بالکل بے کار ہیں۔ یہ لوگ انصاف کے سوال کو نظر انداز کر کے امن قائم کرنا چاہتے ہیں حالانکہ انصاف کے بغیر امن ممکن نہیں۔ مگر یہ ایک غیر حقیقی بات ہے ۔ واقعہ یہ ہے کہ امن کا تعلق انصاف سے نہیں ہے ۔ امن کا مقصد انصاف حاصل کرنا نہیں ہوتا۔ اس کا مقصد صرف مواقع عمل تلاش کرنا ہوتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علی وسلم نے حدیبیہ معاہدہ کے ذریعہ امن حاصل کیا۔ حالانکہ وہ واضح طور پر انصاف کے خلاف تھا۔ رسول اللہ کی وفات کے بعد انصار نے ”مِنَّا أَمِيرٌ وَمِنْكُمُ أَمِيرٌ (ایک امیر ہمارا ہو، اور ایک امیر تمھارا) کا مطالبہ واپس لے کر امن حاصل کیا (مسند احمد، حدیث نمبر (37044)۔ حالانکہ وہ انصاف کے معیار پر پورا نہیں اترتا۔ حقیقت یہ ہے کہ تاریخ میں جب بھی امن حاصل کیا گیا ہے، انصاف کے سوال کو نظر انداز کر کے حاصل کیا گیا ہے ۔ انصاف تو اس جدو جہد کا ثمرہ ہے جو امن کے بعد جاری کی جاتی ہے۔ وہ خود امن کے اندر براہ راست طور پر شامل نہیں ہوتا۔ سفر کے دوران ایک فلسطینی عرب سے گفتگو ہوئی۔ میں نے امن کی اہمیت پر زور دیا اور تشدد کو بے فائدہ بتایا۔ انہوں نے کہا کہ ہم تشدد کے خلاف ہیں۔ مگر ہم وہ امن چاہتے ہیں جو عدل کے ساتھ ہو (نحن نبذ العنف ولكن نرید سلاماً عادلاً)۔ یہی موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے تمام لکھنے اور بولنے والے طبقہ کا نظریہ ہے۔ ہر ایک اپنی اپنی زبان میں یہی بولی بول رہا ہے۔ مثال کے طور پر ایک مسلم انگریزی میگزین ( ریڈیئنس 30-24 مارچ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page