سفرنامہ فلسطین
Urdu book, p. 148
By Maulana Wahiduddin Khan
1996) نے اس موضوع پر ایک پر جوش آرٹیکل شائع کیا ہے۔ اس کا خلاصہ مذکورہ میگزین نے اپنے ٹائٹل کے اوپر اس طرح جلی حرفوں میں نمایاں کیا ہے: امن بغیر انصاف، دور کا خواب ہے: Peace Sans Justice — Distant Dream یہ الفاظ بظاہر خوب صورت معلوم ہوتے ہیں مگر عملی اعتبار سے وہ سراسر بے معنی ہیں۔ کیونکہ موجودہ دنیا میں امن کبھی بھی نظری انصاف کی بنیاد پر نہیں ملتا، حتی کہ پیغمبر کو بھی نہیں۔ امن یہاں جب بھی کسی کو ملتا ہے صورت موجودہ پر راضی ہونے کی بنیاد پر ملتا ہے نہ کہ بوقت صلح غیر حاصل شدہ انصاف کو حاصل کرنے کی بنیاد پر۔ پیغمبر کی زندگی میں اس کی ایک واضح مثال حدیبیہ کا معاہدہ امن ہے ۔ اس کا حصول صرف اس وقت ممکن ہوسکا جب کہ پیغمبر نے صورت موجودہ (سٹیٹس کو) پر اپنی رضا مندی ظاہر کردی۔ 1917ء میں برٹش ایمپائر نے فلسطین کی تقسیم کا ایک فارمولا بنایا جو عام طور پر بالفور ڈیکلریشن کے نام سے مشہور ہے۔ اس تقسیم میں فلسطین کا صرف ایک تہائی حصہ اسرائیل کو دیا گیا تھا اور دو حصہ عربوں کے لیے خاص کیا گیا تھا جس میں پورا کا پورا یروشلم بھی شامل تھا مگر اس وقت کی مسلم قیادت نے اس کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ ایک عرب عالم نے اس کو قبول کر لینے کی بات کہی تو اس پر عرب مفاد سے غداری کا الزام لگایا گیا چنانچہ وہ شخص یہ شعر کہہ کر مر گیا: عنقریب میری قوم جان لے گی کہ میں نے اس کو دھوکا نہیں دیا ہے۔ اور رات خواہ کتنی ہی لمبی ہو جائے صبح بہر حال آ کر رہتی ہے : سَیَعْلَمُ قَوْمِی أَنَّنِی لَا أُغَشَّهُم وَمَهْمَا اسْتَطَالَ اللَّيْلُ فَالصُّبْحُ وَاصِلُه اس وقت کی مسلم قیادت نے اگر سٹیٹس کو (حالت موجودہ) کو قبول کر لیا ہوتا تو فلسطینیوں کی حالت آج سوگنا بہتر ہوتی۔ مزید یہ کہ وہ اس ناقابل بیان تباہی سے بچ جاتے جو پچھلے پچاس سال سے جاری ہے اور ابھی تک ختم نہیں ہوئی۔ حقیقت یہ ہے کہ نزاعی مسائل کو حل کرنے کا واحد ممکن فارمولا یہی ہے۔ دسمبر 1996ء میں میری ملاقات اقوام متحدہ کے ایک ذمہ دار سے ہوئی ۔ انہوں نے ذاتی ملاقات میں مجھ سے پوچھا کہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader