سفرنامہ فلسطین
Urdu book, p. 149
By Maulana Wahiduddin Khan
اجودھیا اور کشمیر کے مسئلے کا حل کیا ہے۔ میں نے کہا، دونوں کے لیے واحد نکاتی فارمولا صرف ایک ہے — حالت موجودہ کو قبول کر لیجیے: I have one-point formula for both — accept the status quo. فلسطینیوں نے یاسر عرفات کی قیادت میں اسرائیل کے یہودیوں سے جو صلح ستمبر 1995ء میں کی ہے اس پر مسلم دنیا میں مختلف رائیں ظاہر کی گئی ہیں۔ سعودی عرب کے مشہور عالم شیخ ابن باز نے اس کو درست قرار دیا ہے۔ اس پر کچھ لوگوں نے اعتراض کیا اور کہا کہ قرآن کے مطابق یہودیوں سے مودت اور موالات جائز نہیں۔ اس کا جواب دیتے ہوئے شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ ابن باز نے کہا کہ یہودیوں اور دوسرے کافروں سے صلح ان کے ساتھ مودت اور موالات کو لازم نہیں کرتی (الصلح مع اليهود او مع غيرهم من الكفرة لا يلزم مودتهم ولا موالاتهم) ۔ الدعوہ، ریاض، 25 شعبان 1415ھ / جنوری 1995ء۔ شیخ ابن باز کے اس فتوے سے اسلام کا ایک اہم اصول معلوم ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ کوئی گروہ خواہ بظاہر وہ دشمنِ اسلام کیوں نہ ہو، اس کے ساتھ صلح کا معاہدہ کیا جا سکتا ہے اور یہ معاہدہ ان کے ساتھ مودت کو مستلزم نہیں ہوگا۔ دو چیزوں میں فرق کرتے ہوئے دونوں کو ایک دوسرے سے الگ الگ دیکھنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک اہم سنت ہے اور اس پر آپ نے بار بار عمل فرمایا ہے۔ مزید یہ کہ ایک حکمت حیات ہے اور اس حکمت کی رعایت کیے بغیر اس دنیا میں کوئی بڑی کامیابی نہیں مل سکتی۔ پی ایل او جس کو تقریباً 450 فلسطینیوں کی نمائندہ تنظیم بتایا جاتا ہے، وہ 1964 میں قائم کی گئی تھی ۔ اس تنظیم کا مقصد اس کے ابتدائی چارٹر کے مطابق یہ تھا—اسرائیل کا استیصال اور صہیونی تحریک کا مکمل خاتمہ۔ مگر عملاً بالکل برعکس صورت پیش آئی۔ یہاں تک کہ یہ تحریک اپنے اعلان کردہ مقصد میں اس حد تک ناکام ہوئی کہ تقریباً 35 سال بعد 24 اپریل 1996 کو فلسطین نیشنل کونسل کی میٹنگ غازہ پٹی میں ہوئی ۔ اس میں اتفاق رائے سے قدیم چارٹر کی اس دفعہ کو سرے سے حذف کر دیا گیا۔ مسلم پریس نے عام طور پر یاسر عرفات کے زیر قیادت فلسطینی تنظیم کے اس فیصلے کی مذمت کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader