Urdu book · سفرنامہ اسپین و فلسطین

سفرنامہ فلسطین

Urdu book, p. 150

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے۔ مگر میں سمجھتا ہوں کہ ٹھیک یہی قابلِ مذمت فعل ان دوسرے مسلم رہنماؤں نے بھی عملاً کر رکھا ہے، جوا بھی تک مسلم پریس میں قابلِ تعریف سمجھے جاتے ہیں۔ موجودہ زمانہ کے تقریباً تمام مسلم رہنماؤں نے یہی کیا ہے کہ ابتدا میں’’باطل کی کامل تخریب‘‘ کے پرشور نعروں کے ساتھ اٹھے اور اب انہی لوگوں نے ہر جگہ اس باطل کے ساتھ موافقت کا انداز اختیار کر رکھا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ فلسطینی قیادت نے پسپائی کا یہ فیصلہ اعلان کے ساتھ کیا، جبکہ بقیہ مسلم رہنما بلا اعلان اسی مصالحانہ روش کو اختیار کیے ہوئے ہیں۔ پاکستانی اخبار نوائے وقت کے شمارہ 16 مارچ 1996ء میں ایک خبر جلی سرخیوں کے ساتھ نظر سے گزری۔ انسداد دہشت گردی کی عالمی کانفرنس کے خاتمہ پر حماس کی طرف سے اسرائیل کے خلاف ایک اعلان کیا گیا جو مذکورہ اخبار میں اس سرخی کے ساتھ چھاپا گیا— یہودیوں کو سکون کی نیند نہیں سونے دیں گے۔ میں نے اس خبر کو پڑھا تو میرے دل نے کہا کہ یہ اعلان ادھورا ہے۔ فلسطینی تنظیم حماس کا اعلان مکمل طور پر ان الفاظ میں ہونا چاہیے— یہودیوں کو سکون کی نیند نہیں سونے دیں گے، خواہ ہم کو وہ موت کی نیند سلا دیں۔ ایک صاحب کو مجھ سے کافی عقیدت ہے۔ کانفرنسوں میں کئی بار ان سے ملاقات ہو چکی ہے۔ اس بار ملاقات ہوئی تو انہوں نے جلدی سے میرا ہاتھ چوم لیا۔ اس کو دیکھ کر ایک بزرگ نے فرمایا: کیا یہ اسلام میں جائز ہے۔ میں نے کہا کہ اس قسم کی چیزیں ہمیشہ وقتی جذبہ کے تحت ہوتی ہیں۔ ان کا جائز اور نا جائز سے کوئی تعلق نہیں۔ ابن کثیر نے باب ’’فتحِ بیت المقدس عَلَى يَدَيْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ‘‘ کے تحت لکھا ہے کہ عمر جب شام پہنچے تو ابو عبیدہ اور دوسرے سرداران سے ملے۔ مثلاً خالد بن ولید، یزید بن ابی سفیان۔ پر ابو عبیدہ سواری سے اتر کر پیدل چلے اور عمر بھی سواری سے اتر کر پیدل چلے، پھر ابو عبیدہ نے اشارہ کیا تا کہ عمر کا ہاتھ چومیں، تو عمر نے چاہا کہ ابو عبیدہ کا پاؤں چوم لیں ۔ چنانچہ ابو عبیدہ رک گئے اور عمر بھی رک گئے (فَأَشَارَ أَبُو عُبَيْدَةَ لِيُقَبِّلَ يَدَ عُمَرَ فَهَمَّ عُمَرُ بِتَقْبِيلِ رِجْلِ أَبِي عُبَيْدَةَ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page