سفرنامہ فلسطین
Urdu book, p. 151
By Maulana Wahiduddin Khan
فَكَفَّ أَبُو عُبَيْدَةَ فَكَفَّ عُمَرُ) البدایہ والنھایہ، جلد 7، صفحہ 55۔ 29 اگست 1995ء کی صبح کو افتتاحی اجلاس تھا۔ وہ یروشلم کے نوٹرڈیم (Notre Dame) ہال میں ہوا۔ اسٹیج کے پیچھے حسب ذیل الفاظ لکھے ہوئے تھے : Community of St. Egidio International Meetings: People and Religions Together in Jerusalem: Jews, Christians and Moslems معاً في القدس يهوداه و مسيحين و مسلمين تقریروں کا خلاصہ یہ تھا کہ تینوں مذہب (یہودیت، مسیحیت، اسلام) کو پرامن طور پر مل کر رہنا چاہیے۔ کیوں کہ ہم ایک وسیع انسانی برادری کے افراد ہیں: We are all members of one large human family یہودی مقرر نے کہا کہ ہم روزانہ اپنی تین وقت کی عبادت میں اور دوسرے مواقع پر "شلوم" کہتے ہیں جس کا مطلب امن ہے۔ اس نے کہا کہ امن یہودیت کا بنیادی اصول ہے۔ امن ہے تو سب کچھ ہے، امن نہیں تو کچھ بھی نہیں: With peace every thing, without peace noting. شیخ عبد السلام مدیر اوقات القدس نے اپنی تقریر میں اسٹیج کو منبر الحب کہا۔ ان کا عربی لہجہ بہت اچھا معلوم ہو رہا تھا۔ انہوں نے موضوع سے متعلق قرآن کی مختلف آیتیں پڑھ کر سنائیں۔ انہوں نے کہا کہ قدس کا نام ہی بتاتا ہے کہ اس علاقہ کو ہر قسم کی اخلاقی برائیوں سے پاک ہونا چاہیے۔ آیت لَا يَنَالُ عَهْدِي الظَّالِمِينَ (2:124) کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جو عہد پر قائم رہے اس کے لیے خدا کا وعدہ ہے جو عہد سے نکل جائے وہ اس سے نکل گیا۔ "شرع من قبلنا شرع لنا، مالم ينسخ" (پچھلی شریعت بھی ہماری شریعت ہے، جب تک وہ منسوخ نہ ہو)۔ جہاد کے معنی کوشش (بذل الجھد) کے ہیں۔ اگر قولی دعوت کے لیے کوئی رکاوٹ نہ ہو تو قتال نہیں ہے۔ لیکن غیر مسلم کی طرف سے قتال کیا جائے تو داعی بھی دفاع بھی کرے گا۔ ان کا پورا انداز پر جوش مجاہدانہ تھا۔ صدر اجلاس نے اپنی تقریر کے آخر میں کہا پیں، شلوم، سلام۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader