Urdu book · سفرنامہ اسپین و فلسطین

سفرنامہ فلسطین

Urdu book, p. 152

By Maulana Wahiduddin Khan

29 اگست کو دوپہر کے سیشن میں کئی تقریریں تھیں ۔ ربی ڈیوڈ روزن (David Rosen) نے اپنی پرجوش انگریزی تقریر میں یروشلم کی زبردست تعریف بیان کی۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں جو حسن اتارا گیا اس کا دس میں سے نو حصہ یروشلم کو دیا گیا اور باقی ایک حصہ ساری دنیا میں تقسیم کیا گیا۔ انہوں نے یہودیوں کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم یہاں صرف رہنے کے لیے نہیں بلکہ اس لیے ہیں کہ ہم یروشلم سے محبت کریں: We are here not just to live in jerusalem, but to love jerusalem. آج کے سیشن میں میں نے آدھا گھنٹہ کا ایک پیپر پیش کیا۔ اس انگریزی پیپر کا خلاصہ یہ تھا کہ یروشلم میں تین مذاہب (یہودیت، عیسائیت اور اسلام) کے درمیان جو نزاع پیدا ہو گئی ہے، اس کو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک سنت پر عمل کر کے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ وہ ہے میرے لفظوں میں الفصل بين القضيتين يا عدم الخلط بين الشيئين۔ معراج کے موقع پر پیغمبر اسلام خدائی نظام کے تحت مکہ سے یروشلم آئے اور یہاں مسجد اقصی میں نماز ادا کی۔ اس وقت یروشلم پر مشرک ایرانیوں کی حکومت تھی۔ آپ نے سیاسی ایشو کو مذہب سے الگ رکھا۔ اگر آپ ایسا نہ کرتے تو اس وقت آپ ایک ایسی مسجد میں نماز نہ ادا کرتے جو عملاً غیر مسلموں کے سیاسی اقتدار کے تحت تھی۔ (یہ مقالہ پوری شکل میں الرسالہ نومبر 1995 میں دیکھا جا سکتا ہے)۔ یہودی علماء اور دانشوروں کی باتوں اور ان کی تقریروں کو سن کر مجھے احساس ہوا کہ ان کے اندر وہ نفسیات مزید اضافہ کے ساتھ موجود ہے جو موجودہ مسلمانوں میں ہے۔ یعنی’’ فخر کے ساتھ کہو ہم یہودی ہیں‘‘ میں نے سوچا کہ اس کا راز کیا ہے۔ میری سمجھ میں آیا کہ اس کا راز یہ ہے کہ بائبل میں دور اول کے یہودیوں کے بارے میں جو باتیں ہیں، اس کو وہ اپنے اوپر چسپاں کر رہے ہیں اور بعد کے زوال یافتہ یہودیوں کے بارے میں جو باتیں ہیں اس کو انہوں نے نظر انداز کر رکھا ہے۔ ٹھیک ایسا ہی خود مسلمان بھی کر رہے ہیں۔ قرآن و حدیث میں دور اول کے اہل ایمان کے بارے میں جو باتیں ہیں موجودہ مسلمانوں نے اپنے آپ کو اس کا مصداق بنا رکھا ہے اور اس میں جو باتیں بعد کے زوال یافتہ مسلمانوں کے بارے میں کہی گئی ہے، اس سے اس طرح چشم پوشی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page