Urdu book · سفرنامہ اسپین و فلسطین

سفرنامہ فلسطین

Urdu book, p. 153

By Maulana Wahiduddin Khan

اختیار کر لی ہے جیسے کہ وہ کسی اور گروہ کے بارے میں ہوں۔ ایک یہودی دانشور جو آج کل امریکہ میں رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آپ کی تجویز تو بڑی اچھی ہے، مگر کیا یہ ممکن بھی ہے۔ میں نے کہا کہ یقینی طور پر ممکن ہے اور وہ اس طرح کہ آپ فلسطینی عربوں کو وہی شہری حقوق اور وہی مذہبی آزادی دینے کے لیے تیار ہو جائیں، جو آپ خود امریکہ میں حاصل کیے ہوئے ہیں۔ امریکہ میں آپ کو مکمل آزادی حاصل ہے۔ وہاں آپ کو یکساں شہری حقوق ملے ہوئے ہیں۔ یہی آپ دل سے فلسطینیوں کو دے دیں۔ اس کے بعد یہ تجویز سراسر قابل عمل ہو جائے گی۔ حقیقت یہ ہے کہ صرف تھوڑے لوگ ہوتے ہیں جو سیاسی آرزوئیں اپنے سینہ میں لیے ہوئے ہوتے ہیں۔ بیشتر لوگوں کی دلچسپی صرف اس سے ہوتی ہے کہ انہیں یکساں شہری حقوق حاصل ہوں۔ وہ آزادانہ طور پر اپنی مرضی کے مطابق زندگی جی سکیں۔ ان کے لیے تعلیمی اور اقتصادی ترقی کے مواقع کھلے ہوئے ہوں۔ ان کو اپنے ماحول میں عزت و احترام ملا ہوا ہو۔ اگر کوئی حکومت عام شہریوں کو یہ چیزیں دے دے، جیسا کہ امریکہ اپنے شہریوں کو دیے ہوئے ہے تو سیاسی شورشیں اپنے آپ ختم ہو جائیں گی۔ میں نے سنا تھا کہ اسرائیل میں خوف وہراس کا ماحول ہونے کی وجہ سے وہاں ہارٹ اٹیک کے واقعات بہت ہوتے ہیں۔ اس کی ایک تصدیق غالباً یہ تھی کہ میں نے ایک اشتہار دیکھا اس میں بتایا گیا تھا کہ اسرائیل میں ایک نئی ہارٹ لائن ٹیکنالوجی ڈیویلپ کی گئی ہے۔ اس کے مطابق آدمی کے ٹیلی فون سے جیبی سائز کا ایک ٹرانسمیٹر وابستہ کر دیا جاتا ہے۔ اس کے ذریعہ ممکن ہو جاتا ہے کہ بوقت ضرورت آدمی فی الفور میڈیکل سینٹر سے رابطہ قائم کر سکے اور ذاتی طور پر میڈیکل سینٹر پہنچے بغیر اس کی ای سی جی جانچ ہو جائے اور فوری طور پر طبی مشورہ حاصل کر سکے۔ اس اشتہار کے چند الفاظ یہ تھے: Heart attacks are still today`s No. 1 killer, But Heartline can help in saving lives. اسرائیل کے شہری مسلسل طور پر اپنے کو غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں۔ چنانچہ ان کو تحفظ دینے کے لیے اسرائیلی ریاست ہر سال اپنے بجٹ کا بہت بڑا حصہ خرچ کرتی ہے۔ اسرائیلی حکومت کو یہ مہنگا خرچ منظور ہے مگر اس کو یہ منظور نہیں کہ وہ فلسطینیوں کو ان کا جائز حق دے دے اور اس طرح فلسطین میں عدم تحفظ کی صورت حال کا خاتمہ کر دے۔ اس فرق کی وجہ یہ ہے کہ بجٹ والا مسئلہ صرف

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page