Urdu book · سفرنامہ اسپین و فلسطین

سفرنامہ فلسطین

Urdu book, p. 154

By Maulana Wahiduddin Khan

خرچ کا مسئلہ ہے، جب کہ حقوق دینے کا مسئلہ ان کے لیے قومی وقار کا مسئلہ ہے۔ اور تاریخ کا تجربہ بتاتا ہے کہ قومیں اپنے وقار کا جھنڈا کسی حال میں نیچے اتارنے پر راضی نہیں ہوتیں خواہ اس کے نتیجہ میں انہیں سوگنا زیادہ نقصان کو برداشت کرنا پڑے۔ اطالوی مسیحی تنظیم (Community of St. Egidio) کی طرف سے یروشلم میں جوائنٹیشنل کانفرنس (29۔ 30 اگست 1995ء) منعقد کی گئی، اس کا شعار یہ تھا: Together in Jerusalem: Jews, Christians and Moslems اس کانفرنس میں 30 اگست کی صبح کو ’’راونڈ ٹیبل‘‘ کا انتظام کیا گیا تھا۔ یہ اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان ایک پولیٹیکل ڈائیلاگ تھا۔ اس میں فلسطینیوں کی طرف سے مسٹر فیصل حسینی شریک تھے جو سابق مفتی اعظم فلسطین کے صاحبزادے ہیں۔ اسرائیل کے نمائندہ کی حیثیت سے اس کے اکنامی اور پلاننگ شعبہ کے منسٹر مسٹر یوسی بیلین موجود تھے۔ درمیانی مددگار کی حیثیت سے اٹلی کے سینئر جرنلسٹ مسٹر آر یگو لیوی تھے۔ 30 اگست کی صبح کو میں یروشلم کے نوٹر ڈیم سینٹر (Notre Dame Centre) پہنچا تو وہاں کے وسیع ہال میں ایک طرف سامعین کی کرسیاں مکمل طور پر بھری ہوئی تھیں۔ دوسری طرف اسٹیج پر ایک لمبی میز تھی جس پر تین کرسیاں لگی ہوئی تھیں۔ ایک فلسطینی نمائندہ کے لیے، دوسری اسرائیلی نمائندہ کے لیے، اور تیسری درمیانی کرسی اطالوی صدر کے لیے۔ میز پر نامور کی تختیاں حسب ذیل ترتیب کے ساتھ رکھی ہوئی تھیں: Yossi Beilin — Arrigo Levi — Feisal Husseini ٹھیک دس بجے تینوں صاحبان پیچھے کے دروازہ سے ہال میں داخل ہوئے۔ میری نشست اگلی کرسی پر عین اسٹیج کے سامنے تھی، اس لیے میں ان کو بخوبی دیکھ سکتا تھا۔ پر شوق سامعین کے ہجوم اور ویڈیو کیمروں کی ہماہمی کے درمیان دونوں کی سیاسی گفتگو شروع ہوئی۔ پہلے صدر جلسہ نے کچھ ابتدائی باتیں کیں۔ اس کے بعد دونوں نمائندوں کے درمیان گفتگو ہوئی۔ اس کا خلاصہ یہ تھا کہ اسرائیلی نمائندہ کا یہ کہنا تھا کہ فلسطین کے سیاسی جغرافیہ کا فیصلہ ہو چکا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page