سفرنامہ فلسطین
Urdu book, p. 155
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے ۔ اب اس کو قبول کر کے آپ یہاں اپنی زندگی کی تشکیل کیجیے۔ فلسطینی نمائندہ کا مطالبہ تھا کہ یروشلم کے معاملہ پر نظر ثانی کی جائے ۔ اس کو کھلا شہر قرار دیا جائے اور یہاں فلسطینیوں اور یہودیوں کی دوگانہ راجدھانی قائم کی جائے : One open city with two capitals. مگر دونوں اپنے اپنے موقف پر قائم رہے ۔ یہاں تک کہ میٹنگ کا مقررہ وقت ختم ہو گیا۔ گفتگو کے دوران واضح طور پر محسوس ہوتا تھا کہ اسرائیلی نمائندہ زیادہ ذہین اور ماہر ہے۔ اس کے مقابلہ میں فلسطینی نمائندہ ہر اعتبار سے کمتر ثابت ہو رہا ہے۔ مثال کے طور پر اسرائیلی نمائندہ نے بتایا کہ میں نے پچھلے ہفتے اریجا جا کر مسٹر یاسر عرفات سے ملاقات کی ۔ میں نے ان سے کہا کہ آپ نے ایک طرف ہم سے امن معاہدہ کیا ہے اور دوسری طرف فلسطینی مسئلہ پر آپ جہاد کی باتیں بھی کر رہے ہیں ۔ یہ تضاد کیوں ۔ فلسطینی نمائندہ نے اس کے جواب میں کہا کہ اسلام میں جہاد کا مطلب صرف قتال نہیں ہے ۔ انہوں نے حدیث (رَجَعْنَا مِنَ الْجِهَادِ الْأَصْغَرِ إِلَى الْجِهَادِ الْأَكْبَرِ) سنا کر کہا کہ اسلام میں زیادہ بڑا جہاد تو نفس کا جہاد ہے اور جہاد بالسيف چھوٹا جہاد ہے ۔ انہوں نے جہاد اکبر کا انگریزی ترجمہ (bigger jihad) کیا اور جہاں اصغر کا ترجمہ (smaller jihad) ۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ جواب بھی نادرست تھا اور یہ ترجمہ بھی نادرست ۔ پچھلے دن کے اجلاس میں میں نے اپنا پیپر پیش کیا تھا جس میں کہا تھا کہ اس خطہ میں امن قائم کرنے کے لیے پولیٹکل ایشو اور مذہبی ایشو کو ایک دوسرے سے الگ کر دیا جائے ۔ جلسہ کے اطالوی صدر نے آخر میں اس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہی اس نازک مسئلہ کا حل ہے ۔ میرے پاس اپنے پیپر کی ایک نقل موجود تھی ۔ میں نے فوراً اٹھ کر صدر جلسہ کو وہ نقل دے دی ۔ انہوں نے فوراً ہی اس کی مزید فوٹو کاپی کروائی۔ ایک اپنے پاس رکھی اور بقیہ فلسطینی اور اسرائیلی نمائندوں کو دی۔ فلسطین کے موجودہ مسئلہ کا آغاز برطانوی گورنمنٹ کے بالفور ڈیکلریشن (1917ء) سے ہوتا ہے۔ یہ ڈیکلریشن سر بالفور (Arthur James Balfour) کی طرف منسوب ہے جو اس وقت برطانی گورنمنٹ میں فارن سیکریٹری تھا۔ اس وقت برطانیہ کے سامنے ایک ہی نوعیت کے دو مسئلے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader