Urdu book · سفرنامہ اسپین و فلسطین

سفرنامہ فلسطین

Urdu book, p. 156

By Maulana Wahiduddin Khan

تھے۔ ایک یہ کہ آئر لینڈ کے لوگ ہوم رول مانگ رہے تھے۔ دوسری طرف برطانیہ (اور دوسرے ملکوں کے یہودی) یہ مطالبہ کر رہے تھے کہ فلسطین کو یہودیوں کا ہوم لینڈ بنا دیا جائے۔ بالفور نے آئر لینڈ کے قوم پرستوں کے لیے جو پالیسی بنائی وہ تھی: ہوم رول کو نرمی سے ختم کرنا (killing home rule by kindness) ۔ مگر فلسطین کے لیے اس کی پالیسی یہ تھی کہ یہودی تنظیم کے مطالبہ کو پورا کرتے ہوئے فلسطین کو یہودیوں کے حوالے کر دیا جائے۔ چنانچہ 2 نومبر 1917 ء کو حکومت برطانیہ کی طرف سے بالفور ڈیکلریشن کی صورت میں اعلان کیا گیا کہ فلسطین میں یہودیوں کے لیے ایک نیشنل ہوم (قومی وطن) قائم کیا جائے گا۔ تاہم یہ سمجھنا درست نہیں ہے کہ برطانیہ کا یہ اقدام کسی اسلام دشمنی کی بنا پر تھا۔ یہ تمام تر اپنے سیاسی مفاد کے لیے کیا گیا۔ 1917 ء میں جب روس میں اشتراکی انقلاب آیا تو چونکہ اس کی قیادت میں زیادہ تر یہودی شامل تھے، برطانیہ کے سیاست دانوں نے یہ سمجھا کہ وہ یقیناً یہودی تحریک (Zionism) کی حمایت کرے گی۔ روس کو اپنے موافق بنانے کے لیے انہوں نے ضروری سمجھا کہ وہ یہودی مطالبہ کو مان لیں۔ وہ سمجھتے تھے کہ اس طرح انہیں عالمی سطح پر یہودیوں کی ہمدردی بھی حاصل ہو جائے گی۔ اس طرح کے اور بھی کئی اسباب تھے جس کی بنا پر برطانی سیاست دانوں نے یہ رائے قائم کی کہ یہودی مطالبہ کو مان لینا ان کے ایمپائر کے حق میں مفید ہوگا۔ اگر چہ یہ رائے سطحی تاثر کے تحت تھی نہ کہ کسی گہرے تدبر کے تحت۔ کچھ لوگوں نے یہ رائے دی ہے کہ اس مسئلہ کو حل کرنے کی شکل یہ ہے کہ یروشلم کو ایک کھلا شہر (Open City) قرار دے دیا جائے ۔ یعنی یروشلم پر کسی بھی فریق کا کامل سیاسی اقتدار نہ ہو۔ بلکہ اقوام متحدہ کی ماتحت میں اس کا انتظام چلایا جائے ۔ اس نظام کی حکمت یہ بتائی جاتی ہے کہ اس طرح ہر مذہب کے لوگوں کو وہاں آزادانہ داخلہ (free access) کی اجازت مل جائے گی۔ خاص طور پر یہودیوں، عیسائیوں اور مسلمانوں کو، جن کے مقدس مذہبی مقامات یروشلم میں واقع ہیں۔ یہ تجویز خواہ نظریاتی طور پر کتنی ہی خوبصورت ہو مگر عملاً وہ ممکن نہیں۔ قابلِ لحاظ بات یہ ہے کہ اصل مقصود مذہبی مقصد کے لیے آزادانہ داخلہ ہے اور وہ بالفعل ہر ایک کو یروشلم میں حاصل ہے۔ یہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page