سفرنامہ فلسطین
Urdu book, p. 162
By Maulana Wahiduddin Khan
مسٹر انگلینڈ نہیں کہا، بلکہ ان کو انگریزوں کا نمک خوار اور دشمنوں کا ایجنٹ کہا۔ اسی طرح مولانا حسین احمد مدنی اور مولانا ابوالکلام آزاد نے ہندوؤں سے مفاہمت کی بات کی تو ان کو بھی مسٹر انڈیا کہنے پر اکتفا نہیں کیا گیا بلکہ انہیں ہندوؤں کا ایجنٹ اور ملت فروش بتایا گیا، وغیرہ۔ یہ بھی شاید ایک پہلو ہے اس حدیث کا جس میں آپ نے یہ خبر دی ـــ پچھلی قو میں 72 فرقوں میں بٹ گئیں، اور تم ان سے بھی زیادہ فرقوں میں بٹ جاؤ گے (مسند احمد، حدیث نمبر 16937)۔ میری سمجھ میں آیا کہ ہر جگہ مسلمانوں اور غیر مسلموں میں جو تباہ کن جھگڑے پیدا ہوتے ہیں وہ صرف باہر والوں کی شرکت سے پیدا ہوتے ہیں۔ جھگڑا پیدا ہونے کے بعد اگر معاملہ صرف مقامی لوگوں تک محدود رہے تو دونوں فریق فطرت کی رہنمائی میں کام کرتے ہیں اور مل جل کر مسئلہ کو حل کر لیتے ہیں۔ مگر جب جھگڑا باہر کے لیڈروں“ کے ہاتھ میں چلا جائے تو بات بگڑ جاتی ہے اور معمولی نزاع ناقابل حل مسئلہ کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ فلسطین کے مقامی مسئلہ کو سب سے پہلے افواہوں نے عالمی مسئلہ بنایا۔ 1948ء میں شیخ حسن البنا نے جذباتی نعرے، تقریریں کر کے قاہرہ میں ایک لاکھ مصریوں کو جمع کیا اور قاہرہ کی سڑکوں پر لبیک یا فلسطین لگاتے ہوئے جلوس نکالا۔ یہ بیرونی دخل اندازی بڑھتی رہی۔ مگر اس کے نتیجہ میں عملاً جو ہوا وہ صرف یہ کہ ذلت اور ناکامی میں ناقابل تلافی حد تک اضافہ ہو گیا۔ ترکی کی خلافت کے لیے ہندوستان میں دھواں دھار تحریک چلانا، پاکستان کے لیے ان علاقوں میں ہنگامہ کھڑا کرنا جہاں پاکستان بننے والا تھا، بابری مسجد کو اجودھیا کے دائرہ سے نکال کر سارے انڈیا بلکہ سارے دنیا کے مسلمانوں کا مسئلہ بنانا، بوسنیا کے سوال کو مقامی مسلمانوں اور مقامی عیسائیوں سے بڑھا کر سارے عالم کے مسلمانوں کا سوال بنا دینا، یہ قیادت نہیں ہے بلکہ صرف نادانی ہے۔ اور اس نادانی نے موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ یروشلم میں ایک اسلامک آرٹ میوزیم ہے۔ اس میں ساتویں صدی عیسوی سے لے کر انیسویں صدی تک کے ”اسلامک آرٹ“ رکھے ہوئے ہیں۔ اسی کے ساتھ اسلامی علوم کی ایک لائبریری بھی ہے جس میں قیمتی کتابیں جمع کی گئی ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader