Urdu book · سفرنامہ اسپین و فلسطین

سفرنامہ فلسطین

Urdu book, p. 163

By Maulana Wahiduddin Khan

اس میں ایک قیمتی تصویر ہے۔ اس تصویر میں مغل حکمران شاہ جہاں کو اپنے تخت پر بیٹھا ہوا دکھایا گیا ہے۔ وہ اپنے دونوں ہاتھ کو اوپر اٹھا کر خدا سے دعا کر رہا ہے۔ تصویر زبان حال سے کہہ رہی ہے میں اگر چہ بادشاہ ہوں۔ مگر خدا کے آگے میں بھی عام انسانوں کی طرح ایک محتاج انسان ہوں۔ اسی طرح اس میں کلیلہ ودمنہ کا ایک فارسی نسخہ ہے۔ اس میں کلیلہ ودمنہ کے واقعات کو رنگین تصویروں کی صورت میں دکھایا گیا ہے۔ وغیرہ۔ کویت کے عرب ہفت روزہ مجتمع (4 ربیع الاول 1416 ھ، یکم اگست 1995) میں المحامی خالد سیف (کردستان، العراق) کا ایک مضمون چھپا ہے۔ اس میں انہوں نے قبتہ الصخرة اور المسجد الاقصی کی تصویریں چھاپی ہیں اور لکھا ہے کہ دونوں واضح طور پر الگ الگ عمارتیں ہیں۔ مگر 80 فیصد مسلمان یہ سمجھتے ہیں کہ دونوں ایک ہیں اور جو قبتہ الصخرہ ہے وہی مسجد اقصیٰ ہے (ان 80% من المسلمين يعتقدون بان مسجد قبة الصخرة هو المسجد الاقصی)۔ عجیب بات یہ ہے کہ خود مذکورہ مضمون نگار نے بھی قبة الصخرہ کو ”مسجد قبة الصخرہ“ لکھا ہے، حالانکہ وہ سرے سے مسجد ہی نہیں۔ انہوں نے لکھا ہے کہ جب بھی مسجد اقصیٰ یا فلسطین کا ذکر ہوتا ہے تو ذہن فوراً سنہری رنگ کے قبتہ الصخرة کی طرف چلا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلم دنیا کے ذرائع ابلاغ جب بھی فلسطین کا تذکرہ کرتے ہیں تو ہمیشہ وہ قبة الصخرہ کی تصویر دکھاتے ہیں۔ حتیٰ کہ خود فلسطینی بھی اپنے جلسوں میں جو لوح لگاتے ہیں اس پر بھی قبة الصخرہ (بیت المقدس) کی تصویر بنی ہوتی ہے۔ ہمارے یہاں فلسطین کے موضوع پر ایسی کتابیں چھپی ہیں جن کے ٹائٹل پر قبة الصخرہ (بیت المقدس) کی تصویر بنی ہوئی ہے۔ اور اس کے نیچے لکھا ہوا ہے: وأقصه۔ مضمون نگار نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ یہ ایسا یہودی سازش کے تحت ہو رہا ہے۔ عربی کا مثل ہے کہ آنکھ سے دور تو دل سے بھی دور (البعيد عن العين بعيد عن القلب)۔ یہودی یہ چاہتے ہیں کہ مسجد اقصیٰ کو مسلمانوں کی آنکھ سے دور کر دیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ ان کے دل سے بھی دور ہو جائے گی۔ اور یہی یہودی جب اس کو ڈ ڈھائیں گے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page