سفرنامہ فلسطین
Urdu book, p. 172
By Maulana Wahiduddin Khan
اسرائیل اور اردن کے درمیان ایک انوکھی جھیل ہے جس کو بحر المیت (Dead Sea) کہتے ہیں۔ وہ سطح سمندر سے 401 میٹر نشیب میں واقع ہے۔ اس کا رقبہ 405 مربع میل ہے۔ اس کے پانی میں نمک اور معدنیات کی آمیزش عام سمندروں سے چار گناہ زیادہ ہے۔ حتیٰ کہ آدمی اس کے اندر داخل ہو تو وہ غرق نہیں ہوتا۔ وسپاسین (Vesparian) رومی سلطنت کا حکمران تھا۔ وہ 68-67ء میں فاتحانہ طور پر فلسطین میں داخل ہوا۔ اس کو بتایا گیا کہ بحر مردار کا پانی اتنا گاڑھا ہے کہ اس میں داخل ہونے والا آدمی اوپر ہی اوپر تیرتا رہتا ہے، اس نے تجربہ کے لیے کچھ یہودی قیدیوں کو اس کے اندر پھنکوا دیا: When the Roman Emperor Vesparian heard of this, he had some Jewish prisoners thrown into the water to see if they could float. جغرافیہ کے علماء بحر مردار جیسی انوکھی جھیل (سمندر) کو سطح زمین کی قدیم تبدیلیوں کے عہد (holocene epoch) کی ایک یادگار سمجھتے ہیں۔ مگر وہ یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ تبدیلیوں کے اس دور میں، جو کہ پچھلے دس ہزار سال کی ارضی تاریخ سے تعلق رکھتا ہے، اس میں صرف بحر مردار ہی استثنائی طور پر ایسی وسیع جھیل کی صورت میں کیوں تبدیل ہو گیا۔ جب کہ اس کا بھی ثبوت ملا ہے کہ ایک عرصہ پہلے تک وہ عام جھیل کی مانند تھا۔ اصل یہ ہے کہ قدیم زمانہ میں یہاں قوم لوط آباد تھی۔ اس کے اندر برائیاں پیدا ہوئیں تو حضرت ابراہیم کے بھتیجے حضرت لوط علیہ السلام ان کی اصلاح کے لیے بھیجے گئے۔ مگر قوم سرکش ہوتی چلی گئی۔ یہاں تک کہ دو ہزار سال قبل مسیح میں ایک شدید زلزلہ آیا۔ زمین کے اندرونی آتش گیر اجزاء بھڑک کر جل اٹھے۔ پورا علاقہ تباہ ہو کر رہ گیا۔ ہندوستان ٹائمز (18 ستمبر) کے درمیانی صفحہ پر مسٹر این سی من (مقیم واشنگٹن) کا مضمون فلسطین کے مسئلہ پر تھا۔ اس کا عنوان تھا — اور امن کا وقت: And a time of peace مضمون نگار 13 ستمبر 1993ء کو واشنگٹن (وائٹ ہاؤس) کی اس تقریب میں موجود تھے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader