سفرنامہ فلسطین
Urdu book, p. 173
By Maulana Wahiduddin Khan
جہاں فلسطینی لیڈر یاسر عرفات اور اسرائیلی وزیر اعظم یتزک رابن کے درمیان ایک دوسرے کو تسلیم کرنے کا معاہدہ ہوا۔ مضمون نگار اس معاہدہ امن کو بے نظیر مفاہمت (unprecedented ) سے تعبیر کیا ہے۔accommodation مضمون نگاره نے لکھا ہے کہ اس قسم کا نسبتاً کم اہم معاہدہ 1979 میں سابق مصری صدر انور سادات اور سابق اسرائیلی وزیر اعظم مناہم یجن کے درمیان ہوا تھا۔ اس وقت یاسر عرفات نے انور سادات کو غدار (traitor) بتایا تھا اور کہا تھا کہ وہ اس قابل ہیں کہ ان کو قتل کر دیا جائے ۔ مگر آج خود یاسر عرفات، سادات کی اسی سنت پر زیادہ بڑے پیمانہ پر عمل کر رہے ہیں۔ یاسر عرفات اب اگر امن کی پالیسی کو ضروری سمجھتے ہیں تو ان کے لیے اپنی اس رائے پر عمل کرنا کوئی غلط بات نہیں۔ مگر ایسی صورت میں انہیں یہ اعلان بھی کرنا چاہیے کہ اس سے پہلے انہوں نے فلسطین کے بارے میں جو پالیسی اختیار کی وہ درست نہ تھی اور انور سادات کو برا بتانا بھی ایک سنگین غلطی تھی۔ غلطی کا اعتراف نہ کرنا ان کے لیے خود سب سے بڑی غلطی ہوگی۔ ابن عسا کر ( 600-527 ھ ) مشہور محدث اور مورخ ہیں۔ انہوں نے مسجد اقصی کے موضوع پر ایک کتاب لکھی ہے۔ اس کا نام ہے: الجامع المستقصى في فضائل المسجد الأقصى - یہ غالباً اس موضوع پر سب سے زیادہ جامع کتاب ہے۔ قبطی چرچ کے پوپ نے 4 جولائی 1995 کو ایک بیان میں کہا کہ یہودی اب شعب مختار (Chosen people) کی حیثیت نہیں رکھتے۔ مسیحیت کے ظہور کے بعد اب ان کی یہ حیثیت ختم ہو چکی ہے۔ میں نے ایک عیسائی اسکالر سے کہا کہ یہ بات جزئی طور پر صحیح ہے۔ کیوں کہ پیغمبر اسلام کے ظہور کے بعد خود مسیحیت کی حیثیت بھی ختم ہو چکی ۔ اور اب خدا کا مختار گروہ وہ ہے جو دین محمدی کو اختیار کرے۔ اس نے توجہ کے ساتھ میری بات سنی اور پھر کہا: مگر کیا محمد عربی ایک عالمی پیغمبر تھے۔ ایک صاحب سے جہاد ( بمعنی قتال ) کے موضوع پر گفتگو ہوئی ۔ انہوں نے کہا کہ آپ کا کہنا ہے کہ اسلام میں جہاد صرف دفاع کے لیے ہوتا ہے۔ مگر دونوں میں کوئی فرق

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader