سفرنامہ فلسطین
Urdu book, p. 174
By Maulana Wahiduddin Khan
نہیں—ماہرین جنگ کا تو کہنا ہے کہ اقدام خود بہترین دفاع ہے: Offence is the best defence. میں نے کہا کہ آپ لوگوں کو صرف پرانے زمانہ کی باتیں معلوم ہیں۔ نئے زمانہ کی آپ کو کچھ خبر نہیں۔ یہ سب مقولے اس زمانہ کے ہیں جب کہ جنگ صرف دو فوجوں کے درمیان ہوتی تھی۔ عام شہری اس کے نقصان سے بچے رہتے تھے۔ مگر آج کی جنگ پورے ملک میں تباہی برپا کرتی ہے۔ اب نہ اقدامی جنگ کا کوئی نتیجہ ہے اور نہ دفاعی جنگ کا۔ اب تو صرف تدبیر کا راستہ انسان کے لیے باقی رہ جاتا ہے۔ میں نے کہا کہ انٹرنیشنل فیڈریشن آف ریڈ کراس اینڈ ریڈ کریسنٹ سوسائٹیز نے جنیوا سے اس سلسلہ میں ایک جائزہ رپورٹ (1995 World Disasters Report) چھاپی ہے۔ اس کے مطابق دوسری عالمی جنگ کے بعد 56 جنگوں میں جو لوگ شدید طور پر اس سے متاثر ہوئے ان میں 95 فیصد تعداد غیر فوجی شہریوں سے تعلق رکھتی تھی: Ninety-five percent of the victims were civilians. ایسی حالت میں جنگ دو طرفہ تباہی کے ہم معنی بن کر رہ گئی ہے۔ اگست 1969ء میں یروشلم کی مسجد اقصی میں آتش زدگی کا واقعہ پیش آیا۔ اس کے بعد ساری دنیا میں مسلمانوں کی طرف سے اس کے خلاف احتجاج کیا گیا۔ اس سلسلے میں 29 اگست کی شام کو دہلی کے آسمان نے ایک عجیب منظر دیکھا۔ یہ مسلمانوں کے دو جلسے تھے جو ایک ہی تاریخ کو ایک ہی مقصد کے تحت مگر دو الگ الگ شامیانوں کے نیچے کیے گئے۔ دونوں کا مقام جامع مسجد دہلی کے قریب کا آزاد پارک تھا۔ ایک جلسہ شام کو 5 بجے ہوا اور دوسرا ساڑھے نو بجے شب میں۔ دونوں جلسوں کا مقصد ایک تھا: مسجد اقصی کی آتش زدگی کے خلاف یوم احتجاج منانا۔ دونوں جلسوں میں اپنے اپنے حلقہ کے لوگ اکٹھا ہوئے ۔ میں دونوں ہی میں شریک تھا۔ میں نے سنا کہ دونوں جلسوں میں اسرائیل کے خلاف پرجوش تقریریں ہو رہی ہیں۔ ان تقریروں کا خلاصہ یہ تھا کہ اے عربو! متحد ہو کر اسرائیل کا مقابلہ کرو۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader