سفرنامہ فلسطین
Urdu book, p. 175
By Maulana Wahiduddin Khan
آخری جلسہ سے فارغ ہو کر جب میں رات کے وقت اپنی رہائش گاہ کی طرف روانہ ہوا تھا تو میری آنکھوں سے بے اختیار آنسو جاری تھے اور زبان سے یہ الفاظ نکل رہے تھے: ہم متحد ہو کر مشورہ بھی نہیں دے سکتے اور وہ متحد ہو کر مقابلہ کریں (الجمعیتہ ویکلی 12 ستمبر 1969)۔ حال میں فلسطین کی سیاسی جدوجہد کے بارے میں ایک کتاب ایک برطانی مصنف نے شائع کی ہے۔ اس انگریزی کتاب کے مصنف کا نام گراہم اشہر ہے: Palestine in Crisis: The Struggle For Peace and Political Independence After Oslo: Pluto Press (1995), pp. 146. یہ کتاب ان فلسطینیوں یا ان عربوں میں پسند کی جا رہی ہے جو یاسر عرفات کی کوششوں سے زیادہ اتفاق نہیں کرتے۔ اس کتاب میں برطانی مصنف نے لکھا ہے کہ یاسر عرفات کی پالیسیوں کے نتیجہ میں فلسطین کو جو امن حاصل ہوا ہے، وہ وقتی اور مصنوعی ہے اور وہ امریکہ اور اسرائیل کی شرطوں پر قائم ہوا ہے نہ کہ عربوں کی شرطوں پر۔ میں نے ایک صاحب سے کہا کہ گراہم اشہر کی یہ بات کوئی زیادہ اہم بات نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش سے جو معاہدہ کیا تھا وہ بھی وقتی تھا اور وہ تمام تر فریق مخالف کی شرطوں پر کیا گیا تھا۔ مگر نتیجہ کے اعتبار سے وہ مسلمانوں کے حق میں فتح مبین بن گیا۔ اصل یہ ہے کہ یہ دنیا مقابلہ کی جگہ ہے، یہاں اصل اہمیت صلح کی دفعات کی نہیں ہے، بلکہ اصل اہمیت یہ ہے کہ صلح کے بعد مستقبل کی تعمیر کے لیے آپ کتنی اہلیت کا ثبوت دیتے ہیں۔ کسی بھی صلح کو مستقبل کے نتائج کے اعتبار سے دیکھنا چاہیے نہ کہ حال کی لفظی دفعات کے اعتبار سے۔ میں نے کہا کہ الفاظ ہمیشہ تاریخ کے تابع ہوتے ہیں، تاریخ کبھی الفاظ کے تابع نہیں ہوتی۔ مسلمانوں کے لکھنے اور بولنے والے لوگ ساری دنیا میں یہ غلطی کر رہے ہیں کہ وہ اپنے مسائل کو قول سدید (الاحزاب، 33:70) کی زبان میں پیش نہیں کرتے۔ وہ ہمیشہ ان کو جذباتی بلکہ غیر واقعی انداز میں پیش کرتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ کسی بھی ملی یا قومی مسئلہ میں مسلمانوں کے درمیان حقیقت پسند رائے نہیں بنتی۔ ساری دنیا کے مسلمان ذہنی اعتبار سے غیر واقعی دنیا میں جیتے ہیں اور جو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader