سفرنامہ فلسطین
Urdu book, p. 176
By Maulana Wahiduddin Khan
لوگ غیر واقعی فضا میں جیتے ہوں وہ کبھی اپنے معاملات کی صحیح منصوبہ بندی نہیں کر سکتے۔ فلسطین کا مسئلہ بھی اسی ذہنیت کا شکار ہوا ہے۔ کویت سے ایک عربی ہفتہ وار نکلتا ہے جس کا نام المجتمع ہے۔ اس کو جمعیۃ الاصلاح الاجتماعی نے 1970 میں جاری کیا تھا۔ اس کے شمارہ 30 مئی 1995ء کے صفحہ اول پر ایک نمایاں تصویر شائع کی گئی ہے۔ یہ بیت المقدس کی تصویر ہے۔ اس کے ایک طرف اسرائیلی جھنڈا گڑا ہوا ہے اور دوسری طرف ایک اسرائیلی فوجی گن لڑکائے ہوئے کھڑا ہے۔ یہ تصویر واضح طور پر مصنوعی ہے۔ جھنڈا اور فوجی کی تصویر الگ سے کاٹ کر یہاں چپکائی گئی ہے۔ بیت المقدس کے پاس ایسی کوئی چیز حقیقتاً موجود نہیں۔ عربی اخبارات ورسائل میں مسلسل ’’القدس‘‘ کے بارے میں مضامین شائع ہوتے رہتے ہیں۔ مگر وہ زیادہ تر جذباتی انداز میں لکھے ہوئے ہوتے ہیں۔ بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان لکھنے والوں کو قدس کے حقیقی مسئلہ کی خبر نہیں۔ مثال کے طور پر مکہ سے نکلنے والے ماہنامہ الرابطہ کے شمارہ 373 میں ایک مضمون چھپا ہے جس کا عنوان ہے: حول قضیۃ القدس ۔ یعنی بیت المقدس کے مسئلہ کے بارے میں۔ اس مضمون کے ساتھ ایک تصویر نمایاں طور پر چھپائی گئی ہے۔ یہ تصویر واضح طور پر قبة الصخرة کی ہے۔ مگر اس کے نیچے لکھا ہوا ہے: مسجد اقصی کو عرب سیادت کے تحت واپس لانا بالکل ضروری ہے (لابد ان يعود الاقصى للسيادة العربية)۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader