Urdu book · سفرنامہ اسپین و فلسطین

سفرنامہ فلسطین

Urdu book, p. 177

By Maulana Wahiduddin Khan

جب میں دہلی سے یروشلم کے لیے روانہ ہوا تو میرے ذہن میں بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ کی واضح تصویر نہ تھی۔ میں سمجھتا تھا کہ شاید دونوں ایک ہی ہیں۔ چنانچہ وہاں کی کانفرنس میں پیش کرنے کے لیے میں نے جو پیپر تیار کیا اس میں بھی میں نے مسجد اقصیٰ لکھ کر اس کے آگے بریکٹ میں بیت المقدس لکھ دیا تھا۔ گویا کہ دونوں ایک ہی ہیں۔ یہ غلط نہی کوئی انفرادی نہ تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ 99 فیصد مسلمان اس معاملہ میں اسی قسم کی غلط نہی میں مبتلا ہیں۔ وہ دونوں کے بارے میں کوئی واضح شعور نہیں رکھتے۔ حتیٰ کہ یہ غلط نہی بہت پہلے سے چلی آرہی ہے۔ صحیح بخاری کی ایک روایت (نمبر 7312) میں ہے کہ اس امت کا معاملہ مستقیم رہے گا یہاں تک کہ قیامت آجائے۔ دوسری کتب حدیث میں بھی یہ روایت الفاظ کے فرق کے ساتھ آئی ہے۔ المعجم الاوسط للطبرانی (حدیث نمبر 47) میں یہ الفاظ ہیں: تُقَاتِلُونَ... عَلَى أَبْوَابِ بَيْتِ الْمُقَدِّسِ وَمَا حَوْلَهُ، لَا يَضُرُّهُمْ خِذْلَانُ مَنْ خَذَلَهُمْ، ظَاهِرِينَ إِلَى أَنْ تَقُومَ السَّاعَةُ (امت کے یہ اہل حق بیت المقدس کے دروازوں پر اور اس کے آس پاس قتال کریں گے۔ ان کا کوئی حریف انہیں نقصان نہ پہنچا سکے گا یہاں تک کہ قیامت آجائے)۔ ایک اور روایت میں ہے: لَا تَزَالُ عِصَابَةٌ مِنْ أُمَّتِي يُقَاتِلُونَ عَلَى أَمْرِ اللَّهِ، قَاهِرِينَ لِعَدُوِّهِمْ، لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَالَفَهُمْ، حَتَّى تَأْتِيَهُمُ السَّاعَةُ وَهُمْ عَلَى ذَلِكَ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 1924)۔ یعنی میری امت کا ایک گروہ اللہ کے معاملے میں قتال کرے گا، اور وہ اپنے دشمن پر غالب رہے گا، ان کے مخالفین ان کو نقصان نہیں پہنچا سکیں گے، یہاں تک کہ قیامت آجائے، اور وہ اسی پر رہیں گے۔ ان روایات میں قتال سے مراد جنگ نہیں ہے، بلکہ غیر حربی کوشش ہے (فتح الباری، جلد 13، صفحہ 295)۔ اس سے معلوم ہوا کہ بیت المقدس کے علاقہ میں ابدی طور پر مسلمانوں کا غلبہ مقدر کر دیا گیا ہے۔ اس حدیث کے مطابق حکومت اسرائیل کے قیام کے باوجود اس غلبہ کو قائم رہنا چاہیے۔ قرآن میں دو جگہ یہود کے ایک مخصوص گروہ (نہ کہ تمام یہودی نسل) کے بارے میں کہا گیا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page