سفرنامہ فلسطین
Urdu book, p. 178
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی مسلسل سرکشی اور نافرمانی کی پاداش میں ان پر لعنت کی اور ان کو ذلیل و خوار بندر بنا دیا (سورہ البقرہ آیت 65، سورہ الاعراف آیت (166) سورہ المائدہ کی آیت 60 میں یہ اضافہ ہے کہ اس گروہ کو بیک وقت بندر اور خنزیر بنا دیا گیا۔ البتہ اس سلسلہ میں ابتداء سے مفسرین کے یہاں اختلاف پایا جاتا ہے کہ بندر اور خنزیر بنا دینے سے کیا مراد ہے۔ بعض اس کو حقیقی جسمانی تبدیلی (physical transformation) کے معنی میں لیتے ہیں اور بعض اس کو مجازی طور پر صرف فکری اور مزاجی تغیر (moral metamorphosis) قرار دیتے ہیں۔ مشہور تابعی مجاہد کا قول ہے کہ اصلاً ان کے دل مسخ کیے گئے، نہ کہ خود ان کو (جسمانی اعتبار سے) بندر بنا دیا گیا۔ یہ عین اسی طرح کی ایک تمثیل ہے جیسی تمثیل یہود کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے (سورہ الجمعہ آیت (5) میں بیان کی ہے کہ وہ اس گدھے کی مانند ہیں جو اپنے اوپر کتابوں کا بوجھ لادے ہوئے ہو۔ (مسخت قلوبهم، وَلَمْ يُمسخوا اقردةً ...., وَإِنَّمَا هُوَ مَثَلٌ ضَرَبَهُ اللَّهُ لَهُمْ، مَثَلُ الْحِمَارِ يَحْمِلُ أَسْفَارًا) تفسیر ابن ابی حاتم، اثر نمبر (672 جرمن نومسلم محمد اسد نے مجاہد کے اسی قول کو سامنے رکھتے ہوئے بقرہ اور اعراف کی مذکورہ بالا دونوں آیتوں میں كُونُواْ قِرَدَةً خَاسِئِينَ (2:65) کا ترجمہ (Be as apes despicable) کیا ہے۔ یعنی ہو جاؤ بندروں کی مانند ذلیل وخوار۔ اس کے علاوہ حاشیہ میں مجاہد کے قول کو انگریزی میں اس طرح نقل کیا ہے: Only their hearts were transformed, that is, they were not really transformed into apes: this is but a metaphor(mathal) coined by God with regard to them, similar to the metaphor of "the ass carrying books." (The Message of the Qur`an, translated and Explained by Muhammad Asad, Dar al-Andalus, Gibralter. p.228) تاہم اس لفظی بحث سے قطع نظر کرتے ہوئے اگر مسخ کو حقیقی جسمانی تبدیلی کے معنی میں لیا جائے تب بھی اس ضمن میں دو باتیں تمام مفسرین کے یہاں متفق علیہ ہیں۔ ایک یہ کہ صحیح حدیث کے مطابق نہ یہود بندر اور خنزیر کی نسل سے ہیں، نہ یہ جانور یہود کی نسل سے، بلکہ دونوں اللہ تعالیٰ کی مستقل مخلوق ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader