سفرنامہ فلسطین
Urdu book, p. 179
By Maulana Wahiduddin Khan
علامہ ابن کثیر نے ابو داؤد الطيالسی کے واسطہ سے عبداللہ بن مسعود کی یہ روایت نقل کی ہے کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کیا بندر اور خنزیر مسخ شدہ یہود کی نسل ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ نہیں۔ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے کسی قوم کو لعنت زدہ ٹھہرا کر اسے مسخ کیا ہو اور پھر اس سے کوئی نسل چلی ہو۔ بلکہ یہ تو ایک مستقل مخلوق ہے جو واقعہ مسخ کے پہلے سے موجود تھی ۔ چنانچہ جب یہود پر خدا کا غضب نازل ہوا اور ان کو مسخ کر دیا تو ان کو انہی کے جیسا بنا دیا (سَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْقِرَدَةِ وَالْخَنَازِيرَ أَهُمْ مِنْ نَسْلِ الْيَهُودِ؟ فَقَالَ: لَا، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يَلْعَنْ قَوْمًا فَقَطُ فَمَسَخَهُمْ فَيَكُونُ لَهُمْ نَسْلُ وَلَكِنْ هَذَا خَلْقٌ كَانَ، فَلَمَّا غَضِبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى الْيَهُودِ فَمَسَخَهُمْ جَعَلَهُمْ مِثْلَهُمْ) مسند ابوداؤد الطيالسی، حدیث نمبر 305 ؛ مسند احمد، حدیث نمبر 3747۔ دوسرے یہ کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ و تابعین سے صراحتاً منقول ہے کہ کوئی مسخ شدہ قوم تین دن سے زیادہ زندہ نہیں رہی، نہ اس نے کچھ کھایا، نہ کچھ پیا اور نہ اس سے توالد و تناسل کا کوئی سلسلہ جاری ہوا (وَلَمْ يَعِشْ مَسْخٌ قَطُّ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ، وَلَمْ يَأْكُلْ وَلَمْ يَشْرَبْ وَلَمْ يَنُسَلُ) تفسیر ابن کثیر، جلد 1، صفحہ 289۔ مسجد اقصیٰ کے گرد و پیش میں جو آبادی ہے وہاں زبان کو مستثنیٰ کر کے بڑی حد تک پرانی دہلی کا منظر دکھائی دیتا ہے۔ بھیڑ، گندگی، بد نظمی، شور و غل، بچوں کی اچھل کود، دیواروں پر حکومت کے خلاف احتجاجی نعرے وغیرہ ۔ آزادی فلسطین کے لیے وہاں جو تنظیمیں زیادہ سرگرم ہیں ان میں ایک حركة المقاومة الاسلامية ہے جس کا مختصر نام (Short form) حماس ہے۔ یہ ایک جذباتی اور انتہا پسند تنظیم ہے۔ اسی کے زیر قیادت 7 دسمبر 1987ء کو ایک مخصوص حادثہ (المقطورة) کے بعد وہ پرشور تحریک وجود میں آئی جو اخبارات میں الانتفاضة کے نام سے مشہور ہوئی۔ اس کے تحت فلسطینی لڑکوں اور نو جوانوں کو اکسایا گیا کہ وہ جہاں کہیں بھی کسی یہودی کو دیکھیں پتھر مار کر اس کا چہرہ زخمی کر دیں۔ جن لڑکوں نے اس تحریک میں حصہ لیا انہیں پر فخر طور پر اولاد الحجارة کہا جاتا ہے۔ جدید ترین ہتھیاروں سے مسلح ایک طاقتور فوج کے مقابلہ میں ”پتھر اٹھانا بلا شبہ ایک مجنونانہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader