سفرنامہ فلسطین
Urdu book, p. 180
By Maulana Wahiduddin Khan
حرکت ہے۔ مگر اپنے اس طریق کار پر حماس کو اتنا یقین ہے کہ اس کے بقول عربوں کے تمام ٹینک اور میزائل بھی وہ کارنامہ انجام نہ دے سکے جو ان کے پتھر نے کر دکھایا، وہ پتھر جو غاصب“ کے چہرہ کو لہولہان کر دیتا ہے (کل الدبّابات و کل صواريخ العرب، ماساوت حجراً، حجر آیرمی وجہ المحتل)۔ اس علاقہ میں جس طرف سے بھی گزر ہوا اکثر دیواریں حماس کی طرف سے لکھے گئے جذباتی نعروں (شعارَات) سے رنگین نظر آئیں ۔ مثلاً نعم لِلحَجر، لا لِلمؤتمَر (پتھر کے لیے ہاں، کانفرنس کے لیے نہیں) یعنی ہمارا مسئلہ صرف پتھر کے ذریعہ لڑ کر حل ہو سکتا ہے نہ کہ امن کانفرنسوں میں بات چیت کے ذریعہ۔ بالقرة و بالقوه فقط تُحرّر ارض فلسطين (طاقت اور صرف طاقت کے ذریعہ ہی سرزمین فلسطین کو آزاد کرایا جا سکتا ہے)۔ جند حماس للأسقى حراس ( حماس کی فوج اقصی کی محافظ)۔ صراعنا مع اليهود صراعُ وجودٍ لا حدود (یہود کے ساتھ ہماری کشمکش ہمارے (قومى) وجود کی کشمکش ہے، نہ کہ (جغرافیائی) حدود کی کشمکش)۔ ان الجهاد في سبيل الله . . . هو الحل الراجح والأسلوب الفعال في التفاهم مع أحفاد القردة والخنازير ... وما الحلول والمبادرات السلمية الاغثاء كغثاء السَّييل (بندروں اور خنزیروں کی اولاد کے ساتھ معاملہ کرنے کے لیے جہاد فی سبيل اللہ ہی قابل ترجیح حل اور مؤثر ترین طریقہ ہے۔ اس کے علاوہ پر امن نوعیت کے سارے حل اور پیش قدمیاں سیلاب کے جھاگ سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتیں)۔ حماس کے یہ نعرے ایک طرف اس کے مزاج اور طریق کار اور دوسری طرف عصر حاضر کے تقاضوں سے اس کی المناک بے خبری کا پتہ دیتے ہیں۔ یہاں ایک بات قابل غور ہے کہ عرب اخبارات میں عام طور پر یہودیوں کو از راہِ تحقیر احفاد القردة والخنازیر (بندروں اور خنزیروں کی اولاد) کہا جاتا ہے۔ جیسا کہ اوپر حماس کے ایک نعرہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader