Urdu book · سفرنامہ اسپین و فلسطین

سفرنامہ فلسطین

Urdu book, p. 181

By Maulana Wahiduddin Khan

میں بھی یہ الفاظ آئے ہیں۔ مگر ایسا کہنا حد درجہ سرکشی اور جہالت کی بات ہے۔ کیوں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث، صحابہ و تابعین اور تبع تابعین کے مسلک کے بالکل برعکس ہے۔ ایک حدیث میں مومن کو نرم پودے (کَمَثَلِ خَامَةِ الزَّرْعِ) سے تشبیہ دی گئی ہے۔ جب ہوا چلتی ہے تو وہ اس سے ہم آہنگ ہو کر دائیں یا بائیں جھک جاتا ہے اور ہوا کا زور گھٹنے کے بعد بدستور اپنی جگہ سیدھا کھڑا ہو جاتا ہے۔ اس کے برعکس منافق سخت تنے کی مانند ہوتا ہے جو ہوا کے ایک ہی جھٹکے میں اپنی جگہ سے اکھڑ کر گر جاتا ہے (صحیح البخاری، حدیث نمبر 7466)۔ دوسری طرف قرآن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا گیا ہے کہ اگر تمہارے مخالفین صلح پر آمادہ ہوں تو تم بھی اللہ پر توکل کرتے ہوئے اس کے لیے آمادہ ہو جاؤ۔ اگر مخالفین مصالحت کے بہانے تمہیں دھوکا دینے کا ارادہ رکھتے ہیں تب بھی اللہ تمہارے لیے کافی ہو جائے گا (الانفال، 62-61)۔ مذکورہ حدیث اور آیت کی روشنی میں دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ ہمارے قائدین نے، خصوصاً مسئلہ فلسطین کے معاملہ میں، نہ تو حقیقی دانش مندی کا ثبوت دیا نہ حقیقی توکل کا۔ دانش مندی کا تقاضا یہ تھا کہ جب ساری دنیا میں امن کا چرچا ہو رہا ہو اور قومی و بین الاقوامی نزاعات کو پرامن بات چیت کے ذریعہ حل کرنا تہذیب و شائستگی کا مسلمہ معیار بن چکا ہو، تو وہ جنگ و قتال جیسی خلاف زمانہ باتوں سے مکمل احتراز کرتے۔ وہ ’’معرکہ حطین‘‘ کی تجدید کے بجائے ’’معاہدہ حدیبیہ‘‘ کی تجدید کو اپنی پالیسی بناتے۔ دوسری طرف توکل علی اللہ کا تقاضا یہ تھا کہ عہد شکنی کے امکانی خطرہ کے باوجود ’’اغیار‘‘ کی طرف سے صلح کی ہر پیشکش کو فوراً قبول کر لینے۔ مگر چوں کہ بروقت ان دونوں میں سے کوئی ایک بات بھی متحقق نہ ہوسکی، اس لیے جان و مال کی بے پناہ قربانیوں کے علی الرغم آج تک ہمارے تمام مسائل، بشمول مسئلہ فلسطین، غیر حل شدہ پڑے ہوئے ہیں، بلکہ وہ مزید پیچیدہ ہو چکے ہیں۔ فلسطین کے ایک اخوانی نوجوان نے کہا کہ اسلام صرف عبادت نہیں ہے، وہ دین بھی ہے اور ریاست بھی۔ اس لیے اس دین کے لیے ضروری ہے کہ اس کے پاس حکومت ہو جو اسلامی قوانین کو نافذ کرے اور دشمنان خدا کے معاملہ میں مسلمانوں کی حمایت کرے اور دشمنوں کی سازشوں سے انہیں بچائے یہ ایک فریضہ ہے مگر اکثر مسلمان اس فرض سے غافل ہیں۔ الاخوان المسلمون مسلمانوں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page