Urdu book · سفرنامہ اسپین و فلسطین

سفرنامہ فلسطین

Urdu book, p. 182

By Maulana Wahiduddin Khan

کواسی کی طرف بلاتی ہے کہ وہ اس فریضہ کو ادا کریں اور اسلامی قوانین کو پوری طرح نافذ کریں: الاسلام ليس عبادة فقط ولكنه دين ودولة۔ وهذا الدين لا بدّ له من دولة تطبق الاسلام و تحمى المسلمين من اعداء الله و ترد كيد الاعداء عنهم۔ فهذا واجب لكن كثيرا من المسلمين غافلون عن هذا الواجب۔ والاخوان يدعونهم لتحقيق هذا الواجب والعمل على تطبيق الشريعة والحكم بالاسلام۔ میں نے کہا کہ یہ پورا نظریہ ایک غلط تفسیر دین پر قائم ہے۔ الاسلام دین و دولة اسلام کی ایک مبتدعانہ تفسیر ہے۔ زیادہ صحیح تعبیر یہ ہے کہ الاسلام دین و دعوة۔ یعنی ذاتی زندگی میں دین دار بننے کے بعد مسلمان پر جو دوسری ذمہ داری ہے وہ دعوت ہے نہ کہ حکومت۔ عبادت اور دعوت ذمہ داری ہے اور حکومت اللہ تعالیٰ کا ایک عطیہ۔ حکومت واقتدار اسلامی عمل کا ہدف نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ کبھی حاصل ہوتا ہے اور کبھی حاصل نہیں ہوتا۔ میں نے کہا کہ اس معاملہ کی پوری تفصیل میں نے اپنی کتاب دین کامل میں کی ہے۔ اس کتاب کا عربی ترجمہ الدین الکامل کے نام سے قاہرہ سے چھپ چکا ہے۔ ایک فلسطینی نوجوان نے کویت کی دستوری تحریک کا حوالہ دیا کہ اس نے یہ مطالبہ کیا ہے کہ ٹررزم میں اور قبضہ کے خلاف مزاحمت میں فرق کیا جائے جو کہ قوموں کا جائز حق ہے (الحركة الدستورية الاسلامية فى الكويت طالبت بالتفريق بين الارهاب و حق الشعوب فى مقاومة الاحتلال)۔ میں نے کہا کہ اس قسم کے فرق دماغوں میں ہوتے ہیں وہ عملی زندگی میں نہیں ہوتے اور جب دو فریق کے درمیان نزاع کی صورت پیدا ہو جائے تو اسلام اور عقل دونوں کا تقاضا یہ ہے کہ اس وقت ذہنی معیار کو پس پشت ڈال کر یہ دیکھا جائے کہ عملی صورت حال کے مطابق کیا ممکن ہے اور کیا ممکن نہیں۔ میں نے کہا کہ عملی بنیاد پر مذکورہ فیصلہ کو میں درست سمجھتا ہوں، آپ اگر ذہنی معیار پر اصرار کریں گے تو آپ وہ تو نہیں پائیں گے جو آپ پانا چاہتے ہیں۔ البتہ جو کچھ آپ کو ملا ہوا ہے اس کو بھی آپ کھو دیں گے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page