سفرنامہ فلسطین
Urdu book, p. 183
By Maulana Wahiduddin Khan
عرب اخبارات و رسائل اس قسم کے عنوانات سے بھرے رہتے ہیں: بقاء القدس فی ید اسرائیل یعنی ان الاستعمار الصهیونی قائم (قدس کا اسرائیل کے ہاتھ میں باقی رہنا یہ معنی رکھتا ہے کہ صہیو نی استعمار قائم ہے) مدينة القدس الشریف تنادیکم (قدس آپ کو پکار رہا ہے) ان العرب سیرمون اسرائیل فی البحر (عرب اسرائیل کو سمندر میں پھینک دیں گے) القدس الشریف: بین مومرة التہوید و طمس هويتها الاسلامية (قدس یہودی سازش اور اس کے اسلامی تشخص کو مٹانے کی کوشش کے درمیان) یروشلم میں مسجد اقصی کے قریب ڈیڑھ ایکڑ کے رقبہ میں ایک مسجد اور مرکز ہے۔ اس کا نام زاویہ الفرید یہ ہے۔ کہا جاتا ہے کہ غیر منقسم ہندوستان کے ایک صوفی بابا فرید گنج شکر چار سو سال پہلے یہاں زیارت کے لیے آئے تھے۔ اس وقت فلسطین میں عثمانی ترکوں کی حکومت تھی۔ ترک گورنر نے بابا فرید کو مسجد کے دو کمرے دے دیے ۔ بعد کو ہندوستانی نوابوں کے تعاون سے کچھ اور عمارتیں یہاں بنائی گئیں۔ سہارن پور کے خواجہ نذیر حسن انصاری کو اس وقت کی ہندوستانی حکومت نے 1922ء میں یہاں سے ایڈمنسٹریٹر کے طور پر بھیجا تھا۔ 1953ء میں ان کی وفات ہو گئی ۔ اب ان کے پوتے نذر حسن انجینئر اس وقت کے ٹرسٹھی ہیں۔ انڈیا سے اس ٹرسٹ کو چھ ہزار روپے سالانہ کی امداد دی جاتی ہے۔ یروشلم کی موتمر کا دعوت نامہ مجھے مل چکا تھا کہ اس کے بعد فروری 1994ء میں میرا ایک سفر رباط (المغرب) کے لیے ہوا۔ وہاں الجزائر کے ڈاکٹر محمد السلیمانی سے ملاقات ہوئی۔ ان سے ذکر ہوا تو انہوں نے کہا کہ آپ کو یروشلم کی موتمر کا دعوت نامہ ہرگز قبول نہیں کرنا چاہیے۔ میں نے پوچھا کیوں ۔ انہوں نے کہا کہ آپ کا وہاں جانا اسرائیل کی تصدیق کے ہم معنی ہے۔ میں نے کہا کہ یہ میری تمنا تھی کہ میں قدس میں داخل ہو کر اللہ کے لیے سجدہ کروں جہاں پیغمبروں نے سجدہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ آپ کی نیت کچھ بھی ہو مگر عملاً تو وہ اسرائیل کی تصدیق بن جائے گا۔ میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا یہ طرزِ فکر سراسر ایک غیر مسنون طرزِ فکر ہے۔ قدیم

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader