Urdu book · سفرنامہ اسپین و فلسطین

سفرنامہ فلسطین

Urdu book, p. 184

By Maulana Wahiduddin Khan

مکہ میں تقریباً وہی صورت پیش آئی جو موجودہ زمانہ میں فلسطین میں پیش آئی ہے۔ قریش نے رسول اور اصحاب رسول پر سخت مظالم کیے، یہاں تک کہ ان کو وطن سے نکلنے پر مجبور کر دیا اور پھر مکہ کے اوپر اپنا مجرمانہ اقتدار قائم کر لیا۔ اس کے بعد یہ واقعہ ہوا کہ مکہ میں دشمنان اسلام کا اقتدار باقی رہتے ہوئے رسول اور اصحاب رسول نے عمرہ کے لیے مکہ کا سفر کیا۔ پہلی بار اہل مکہ نے داخل نہیں ہونے دیا تو اگلے سال دوبارہ سفر کیا اور مکہ میں داخل ہو کر کعبہ کا طواف کیا جس میں اب 360 بت رکھے ہوئے تھے اور پھر کسی احتجاج یا ٹکراؤ کے بغیر مدینہ واپس گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سوچ وہ ہوتی جو آپ حضرات کی سوچ ہے، یعنی کہ میں داخلہ کو آپ دشمن کے اعتراف کے ہم معنی سمجھتے تو آپ کبھی بھی مکہ میں داخل نہ ہوتے۔ اس واقعہ سے رسول اللہ کی ایک خاص سنت اخذ ہوتی ہے۔ اور وہ ہے دو چیزوں کو ایک دوسرے میں نہ ملانا۔ پس یہ بھی رسول اللہ کی ایک سنت ہے کہ دو مختلف چیزوں کو ایک دوسرے سے مختلط نہ کیا جائے (عدم الخلط بين الشيئين هو سنة من سنن الرسول)۔ میں نے کہا کہ آپ جیسے لوگوں کی سوچ منفی سوچ ہے۔ جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پورے معنوں میں مثبت انداز میں سوچتے تھے (طريقتكم في التفكير سلبية والرسول كان يفكر بطريقة ايجابية بكل معنى الكلمة)۔ ایک زمانہ تھا کہ عرب دنیا میں الاخوان المسلمون کے سیاسی فکر کی دھوم تھی۔ مگر اب اس فکر کی سطحیست لوگوں پر واضح ہونے لگی ہے۔ چنانچہ اہل علم میں اس کے ناقدین پیدا ہورہے ہیں۔ ایک صاحب نے مصر کے ڈاکٹر عبد الصبور مرزوق (پیدائش 1925) کا قول سنایا کہ کیا یہ بے معنی نہیں ہے کہ ہم اسلامی حکومت کا مطالبہ کریں اور حال یہ ہے کہ مسلمانوں کا ہاتھ نیچے کا ہاتھ بنا ہوا ہے۔ وہ خوراک اور ہتھیار اور کپڑے اغیار سے مانگتا ہے۔ ہم ہر معاملہ میں دوسروں کے محتاج ہیں اور اگر وہ چاہیں تو اپنی گاڑیاں ہمیں نہ دیں اور ہم دوبارہ گدھے اور خچر کی سواری کی طرف لوٹ جائیں: اليس من العبث ان نطالب بدولة اسلامية ويد المسلمين السفلى تطلب من غيرها الطعام والسلاح والملابس ونظل عالة على غيرنا ولو شاء و احبسوا اعنا السيارات مثلا و رجعنا للبغال والحمير۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page