سفرنامہ فلسطین
Urdu book, p. 185
By Maulana Wahiduddin Khan
میں نے کہا کہ یہ درست ہے۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان علم سے لے کر کردار تک ایک پچھڑی ہوئی قوم بن چکے ہیں۔ مفت کے پیٹرول ڈالر سے حاصل کی ہوئی ظاہری چمک دمک کو ہٹا دیجیے تو اندر سے وہ ہر اعتبار سے کھوکھلے نظر آئیں گے۔ ایسی حالت میں حکومت اور خلافت کی باتیں کرنا وقت کا ضیاع ہے، نہ کوئی حقیقی کام۔ ایک سنجیدہ قسم کے عرب عالم سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے موجودہ زمانہ کے مسلم رہنماؤں پر تنقید کرتے ہوئے کہا: ہم يَحُلّون العقدة بطريقة تجعل العقدة الواحدة عقدتين (وہ گرہ کو اس طرح کھولنے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ ایک گرہ کو دو گرہ بنا دیتی ہے)۔ میں نے کہا کہ یہی بات برصغیر ہند کے تمام مسلم رہنماؤں پر صادق آتی ہے۔ ہر ملی گرہ جس کو کھولنے کے نام پر وہ اٹھے اس نے ایک گرہ کو کئی گرہ بنا دیا۔ تقسیم کی تحریک، شاہ بانو تحریک، بابری مسجد تحریک، اس کی قریبی مثالیں ہیں۔ یروشلم کی کانفرنس میں شرکت کے لیے روم سے بار بار ٹیلی فون آئے۔ میں وہاں جانے کے لیے صرف اس لیے تیار ہوا تھا کہ اس طرح مجھ کو مسجد اقصی میں نماز پڑھنے کا موقع ملے گا۔ تاہم ایک خدشہ بھی لگا ہوا تھا۔ عرب اخبارات مسلسل اس کی جو تصویر پیش کر رہے تھے، اس سے میں نے سمجھا تھا کہ مسجد اقصی کے چاروں طرف اسرائیل کی بہت بڑی فوج کھڑی ہوئی ہوگی اور عین ممکن ہے کہ وہ مجھے داخل ہونے کی اجازت ہی نہ دیں اور میں نامراد ہو کر وہاں سے لوٹ آؤں۔ عرب اخبارات نے اس معاملہ میں اتنا غلو کیا ہے کہ انہوں نے فرضی تصویریں چھاپ کر پورے معاملہ کو غلط رنگ میں پیش کیا (اس کی کچھ تفصیل اس سفر نامہ میں موجود ہے)۔ جہاں تک میں نے سمجھا ہے فلسطینیوں کے ساتھ اسرائیل کی دشمنی اصلاً سیاسی دشمنی ہے، نہ کہ دینی دشمنی۔ مگر فلسطینیوں نے اور عربوں نے انتقامی جذبہ کے تحت دونوں میں فرق نہیں کیا۔ انہوں نے اسرائیل کو اپنا سیاسی دشمن بتانے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اس سے آگے بڑھ کر یہ کہنا شروع کیا کہ وہ مذہبی اعتبار سے خود اسلام کا دشمن ہے۔ ان حضرات کے یہ بیانات قرآن کے اس حکم کے خلاف ہیں کہ دشمنی کے وقت بھی انصاف کی روش پر قائم رہو (المائدہ، 5:8)۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader