Urdu book · سفرنامہ اسپین و فلسطین

سفرنامہ فلسطین

Urdu book, p. 186

By Maulana Wahiduddin Khan

یروشلم کی کانفرنس میں شرکت پر مجھ کو کئی سخت تبصرے سننے پڑے۔ ایک صاحب نے کہا۔ آپ بھی آخر کار یہودی سازش کا شکار ہو گئے: You too at last fell victim to Zionist Conspiracy. میں نے کہا کہ آپ لوگ کتنی آسانی سے اس طرح کے جملے کسی کے بارے میں بول دیتے ہیں۔ حالاں کہ وہ اسلام میں جائز ہی نہیں۔ اس طرح کے تبصرے محض ظن و قیاس ہیں نہ کہ دلیل۔ ظن کی بنیاد پر آپ کسی کے بارے میں اچھی رائے تو ظاہر کر سکتے ہیں، مگر ظن کی بنیاد پر بری رائے ظاہر کرنا یقینی طور پر حرام ہے۔ میں نے اپنی پوری زندگی میں کبھی کسی کے بارے میں اس طرح کا جملہ نہیں کہا۔ عجیب بات ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلم دانشوروں پر یہودی سازش کا تصور اس طرح غالب ہے کہ وہ ہر واقعہ میں یہودی سازش کو کام کرتا ہوا دیکھتے ہیں۔ مثلاً کہا جاتا ہے کہ موجودہ صدی کے آغاز میں ترکی کی عثمانی خلافت یہودیوں کی سازش سے ختم ہوئی۔ اقبال کا شعر ہے: چاک کر دی ترک نادان نے خلافت کی قبا سادگی اپنوں کی دیکھ اوروں کی عیاری بھی دیکھ حیرت ہے کہ یہ بات وہ لوگ بھی کہتے ہیں جو حکمتِ قرآن (Quranic Wisdom) کے علمبردار ہیں۔ حالاں کہ یہ بات قرآن کی تردید کے ہم معنی ہے۔ قرآن میں صاف طور پر بتایا گیا ہے کہ اگر تم تقویٰ اور صبر کرو تو دشمنوں کی سازش تمہیں کچھ بھی نقصان نہیں پہنچائے گی (آل عمران، 3:120)۔ اس قرآنی ارشاد کی روشنی میں ہمیں ملی مصائب کے بارے میں کہنا چاہیے کہ وہ ہمارے اندر تقویٰ اور صبر کے فقدان کا نتیجہ تھا نہ کہ حقیقتاً کسی کے سازشی منصوبہ کا نتیجہ۔ ایک عرب عالم سے گفتگو ہوئی۔ میں نے کہا کہ مسلمان کیوں ایسا کر رہے ہیں کہ ہر جگہ حکومتوں سے متشددانہ ٹکراؤ کر کے اپنے آپ کو مروارہے ہیں۔ اس قسم کی ہلاکت خیز پالیسی نہ تو عقل کے مطابق ہے اور نہ اسلام کے مطابق۔ انہوں نے کہا کہ جب اہل حق سے ان کا حق چھیناجائے گا تو لازم ہے کہ وہ اس کو واپس حاصل کریں۔ آپ جانتے ہیں کہ لوگ جب ہر قسم کا علاج کر چکے ہوتے ہیں تو آخر میں وہ داغنے والے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page