Urdu book · سفرنامہ اسپین و فلسطین

سفرنامہ فلسطین

Urdu book, p. 187

By Maulana Wahiduddin Khan

طریقِ علاج کو استعمال کرتے ہیں۔ اگرچہ وہ ایک غیر پسندیدہ علاج ہے۔ ہم نے موجودہ طریقہ کو اسی وقت اختیار کیا جب کہ ہم مجبور ہو گئے ۔ مشکل کو وہی اختیار کرتا ہے جو مضطر ہو : اذا سُلب اھل الحق حقھم فلا بد ان يستعيدوہ ۔ و اذا اضطر الناس الى استنفاد کل و سائل العلاج فبان آخر العلاج الکى ، ولو انہ علاج غير مستحب ۔ ولن نلجأ اليه الا اذا اضطررنا، فلا يركب الصعب الا المضطر ۔ میں نے کہا کہ موجودہ حالت میں تشدد کا طریقہ علاج نہیں ہے بلکہ وہ خود کشی ہے اور عملاً آج یہی ہو رہا ہے ۔ انہوں نے دوبارہ سوال کیا کہ پھر یہ مسلمان کیا کریں۔ میں نے کہا کہ انہیں دو میں سے ایک کام کرنا چاہیے۔ یا تو وہ سیاسی اقتدار کے مسئلہ کو علٰی حالہ چھوڑ کر دوسرے غیر سیاسی میدانوں میں تعمیر و ترقی کی جدوجہد کریں جس کا میدان ہر ملک میں پوری طرح موجود ہے۔ اور اگر بالفرض وہ سیاسی جدوجہد ہی کو ضروری سمجھتے ہیں تو بم اور گن سے مکمل طور پر کنارہ کشی اختیار کرتے ہوئے خالص پرامن انداز میں اپنی تحریک چلائیں۔ جیسے انڈیا میں مہاتما گاندھی نے اور ساؤتھ افریقہ میں نیلسن منڈیلا نے کیا۔ مسلمان پر تشدد جدوجہد کا طریقہ چھوڑ کر پرامن جدوجہد کا طریقہ اختیار کر لیں۔ میں نے کہا کہ موجودہ مسلمانوں کا کیس اضطرار کا کیس نہیں ہے، وہ غلط چوائس لینے کا کیس ہے۔ ان کے لیے ایسر کو اختیار کرنے کا موقع پوری طرح موجود تھا۔ مگر انہوں نے ناقابل فہم نادانی کے تحت عسر کو اپنے لیے اختیار کر لیا۔ حالانکہ وہ واضح طور پر سنتِ رسول کے خلاف ہے۔ اورنگ زیب نے اپنے باپ شاہ جہاں کو 1658ء میں گرفتار کر لیا اور آگرہ کے قلعہ میں اس کو قید کر دیا۔ کہا جاتا ہے کہ ایک بار شاہ جہاں نے پریشانی کا خط لکھ کر اورنگ زیب کے پاس بھجوایا۔ اورنگ زیب نے اس کے جواب میں فارسی کا ایک مصرعہ لکھ کر بھیج دیا— زخمی چڑیا جب جال میں پھنس جائے تو اس کو برداشت سے کام لینا چاہیے : مرغ بسمل چوں بہ دام افتد تحمّل بایدش اس کا مطلب، دوسرے لفظوں میں یہ تھا کہ حقیقت پسندی سے کام لیجیے۔ میں سمجھتا ہوں کہ فلسطین کا معاملہ جو اتنا زیادہ بگڑ گیا اس کا سبب یہی تھا کہ اس معاملہ میں مسلم رہنماؤں نے حقیقت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page