سفرنامہ فلسطین
Urdu book, p. 188
By Maulana Wahiduddin Khan
پسندی سے کام نہیں لیا گیا۔ حسن البنا سے لے کر یاسر عرفات تک بلا استثناء ہر عالم اور ہر قائد اس معاملہ میں غیر حقیقت پسندانہ رہنمائی دیتا رہا۔ یہاں تک کہ مسلمان ذلت اور تباہی کی آخری حد پر پہنچ گئے۔ 1948ء میں اقوام متحدہ نے جو تقسیم کی تھی اس میں فلسطین کا نصف سے زیادہ حصہ عربوں کے پاس تھا۔ اسی کے ساتھ پورا یروشلم بھی انہیں حاصل تھا۔ مگر مسلم قیادت نے پرجوش طور پر اس تقسیم کو نامنظور کر دیا۔ اس کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان لامتناہی جنگ چھڑ گئی جس کا سارا فائدہ یہودیوں کو ملا اور سارا نقصان مسلمانوں کے حصہ میں آیا۔ اگر حقیقت پسندی سے کام لیا جاتا تو کرنے کا کام یہ تھا کہ فلسطین کے ملے ہوئے حصہ میں عربوں کی حکومت قائم کی جائے اور اس کے یہودی حصہ میں مسلمان سیکولر شہری بن کر اسی طرح تعمیر و ترقی کے کام میں سرگرم ہو جائیں جس طرح لاکھوں عرب آج بھی غیر مسلم ملکوں میں تعمیر و ترقی کے عمل میں مصروف ہیں۔ ایک وقت تھا کہ مصر کے فوجی صدر جمال عبدالناصر اور دوسرے لوگ یہ کہتے تھے کہ عرب اسرائیل کو سمندر میں پھینک دیں گے (ان العرب سیرمون اسرائیل فی البحر) ۔ لیبیا کے کرنل معمر القذافی اتنے جوش میں تھے کہ انہوں نے اپنے ساتھی مسٹر جلوود کو یہ کہہ کر اسپیشل جہاز سے چین بھیج دیا کہ وہاں سے ایٹم بم خرید کر لاؤ تا کہ اس کو اسرائیل کے اوپر گرا کر ہمیشہ کے لیے اس کا خاتمہ کر دیا جائے ۔ یاسر عرفات اور دوسرے تمام لیڈر اسی قسم کی پرجوش بولی بول رہے تھے۔ مگر آج صورت بدل چکی ہے۔ یاسر عرفات پچھلی سیٹ پر چلے گئے ۔ یہاں لیبیا سے قریبی واقفیت رکھنے والے ایک صاحب نے کہا کہ کل کے معمر قذافی کے مقابلہ میں آج کے قذافی مکمل طور پر بدل چکے ہیں (القذافی اليوم يختلف تماماً عن قذافي الامس)۔ یہ بات خود قذافی کی طرف سے پریس میں آ چکی ہے۔ المجلہ کے نمائندے عبدالرحمن الراشد اور عبداللطیف المناوی نے لیبیا جا کر معمر قذافی کا ایک انٹرویو لیا۔ ایک سوال کے جواب میں قذافی نے کہا کہ پہلے ہم آزادیٔ فلسطین کے بارے میں جنگ کی باتیں کیا کرتے تھے لیکن انقلابات کی صورت حال نے ثابت کیا ہے کہ یہ ضروری نہیں۔ جس چیز کو بدلنا ہے وہ ہمارا طریق کار ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader