Urdu book · سفرنامہ اسپین و فلسطین

سفرنامہ فلسطین

Urdu book, p. 189

By Maulana Wahiduddin Khan

(یعنی بات چیت کا طریقہ) جہاں تک جنگِ فلسطین کا معاملہ ہے تو اس سلسلہ میں جنوبی افریقہ کو دیکھئے ۔ جہاں جنگ کے بغیر اسی نوعیت کا مسئلہ حل کر لیا گیا۔ آزادیٔ فلسطین کے لیے بھی ضروری نہیں کہ ہم جنگ چھیڑیں۔ اگر فلسطینی لوگ اپنی سر زمین میں واپس آ جائیں اور ان کی 5 یا 6 ملین تعداد یہودیوں کے ساتھ ایک جمہوری نظامِ حکومت میں شرکت پر راضی ہو جائے تو آخر کار ان کا مسئلہ مکمل طور پر حل ہو جائے گا (الرسالہ مئی 1995)۔ اس سے پہلے قذافی مسلح جدوجہد کے زبردست حامی تھے۔ حتی کہ انہوں نے اپنی قوم کو یہ گانا سکھایا کہ احنا شرابون دم۔ مگر ہلاکت خیز تجربے کے بعد اب نہ صرف قذافی بلکہ فلسطین کے یاسر عرفات سے لے کر فلپائن کے نور مسواری تک ہر ایک مسلح جدوجہد کی بولی چھوڑ کر پر امن جدوجہد کی بولی بول رہا ہے۔ زیادہ اہم مسئلہ ریحاوم زیوی (Rehavam Zeevi) اسرائیل کی فوج میں ایک آرمی جنرل تھے۔ ان کی عمر اب 63 سال ہے۔ فوج سے ریٹائر ہونے کے بعد وہ پالینکس میں شامل ہو گئے ہیں۔ اس وقت وہ اسرائیل کی پارلیمنٹ (Knesset) کے ممبر ہیں۔ وہ ان لوگوں میں سے ہیں جن کو اسرائیل میں پروٹランスفر (protransfer) کہا جاتا ہے۔ یعنی اس نظریہ کے حامی کہ عربوں کو فلسطین سے نکال کر انہیں دوسری جگہ منتقل کر دیا جائے۔ امریکی میگزین نیوز ویک (News Week) کے نمائندہ اسٹینگر (Theodor Stanger) نے ان سے اسرائیلی پارلیمنٹ کے دفتر میں ملاقات کر کے ان کا انٹرویو لیا۔ ایک سوال و جواب یہ تھا: س: کیا آپ فلسطین کے ساتھ امن چاہتے ہیں؟ ج: فلسطینی لوگوں کے لیے واحد حل یہودیوں سے علیحدگی ہے۔ ہر قوم اپنے باپ دادا کی زمین کی طرف لوٹنے کا حق رکھتی ہے۔ ہم یہودی اپنے باپ دادا کی زمین کی طرف لوٹ آئے ہیں۔ فلسطینیوں کے باپ دادا یہاں سعودی عرب، سوڈان اور لیبیا سے آئے تھے (اس لیے وہ دوبارہ وہاں لوٹ جائیں)۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page