سفرنامہ فلسطین
Urdu book, p. 190
By Maulana Wahiduddin Khan
س: کیا آپ دس لاکھ سے اوپر ان فلسطینیوں کو زبردستی بسوں اور ٹرکوں میں بھریں گے اور انہیں لے جا کر باہر ڈال دیں گے؟ ج: مسٹر زیوی نے جواب دیا کہ نہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ عرب ممالک انہیں اپنے یہاں بلا لیں یا فلسطینی خود ایسا کریں کہ وہ ڈیڑھ لاکھ، دو لاکھ سالانہ کی تعداد میں یہاں سے جانا شروع کریں۔ چند سال کے بعد یہاں کوئی مسئلہ نہ ہوگا۔ In a few years, there would be no problem. (News Week, 12 Nov, 1990, p. 56) یہ ایک انتہا پسند یہودی کی بات ہے۔ اس طرح کے انتہا پسند افراد ہر قوم میں ہوتے ہیں۔ نہ صرف دوسری قوموں میں بلکہ خود مسلمانوں میں بھی ایسے انتہا پسند افراد مل سکتے ہیں۔ مگر ایسے انتہا پسند افراد کبھی کسی قوم میں قبول عام حاصل نہیں کرتے۔ ان کے لیے صرف یہ انجام مقدر ہے کہ وہ چند سال تک اس قسم کے سخت الفاظ بولیں اور اس کے بعد مرکز تاریخ کے قبرستان میں دفن ہو جائیں۔ کتے بھونکتے رہتے ہیں اور ہاتھی چلتا رہتا ہے ۔ یہ مثل ایسے ہی مسائل کے لیے بنائی گئی ہے اور بلا شبہ ایسے مسائل کا اس سے بہتر کوئی حل نہیں۔ 1978ء کے اواخر میں مصر کے مقتول صدر انور سادات نے اسرائیل کے ساتھ امن مذاکرات کے لیے پیش قدمی کی۔ جس کے نتیجہ میں بالآخر فریقین نے اس معاہدہ پر دستخط کیے جو کیمپ ڈیویڈ معاہدہ کے نام سے مشہور ہوا۔ اس سلسلہ میں مصر اور اسرائیل کے درمیان جو بات چیت ہوئی اس کی سر پرستی سابق امریکی صدر جی کاٹر (Jimmy Carter) نے کی تھی۔ نیز انہیں کے حسب منشاء معاہدہ کا آخری مسودہ تیار کیا گیا، جس کا پورا نام یہ تھا: A Framework for Peace in the Middle East Agreed at Camp David اس معاہدہ کی دفعہ نمبر 2 کی شق (C) مغربی کنارہ اور غازہ پٹی میں فلسطینیوں کی حکومت خود اختیاری (Self-governing authority) کے بارے میں تھی، مگر اس کی عبارت نہایت مبہم اور بالواسطہ انداز میں (با اسلوب غامض و غیر مباضر) لکھی گئی تھی۔ اس وقت محمد ابراہیم کامل مصر کے وزیر خارجہ تھے۔ اسی کے ساتھ امن مذاکرات کے دوران وہ سادات کے خصوصی ایڈوائزر بھی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader