Urdu book · سفرنامہ اسپین و فلسطین

سفرنامہ فلسطین

Urdu book, p. 191

By Maulana Wahiduddin Khan

تھے ۔ ان کا بیان ہے کہ میں نے اس پہلو پر توجہ دلاتے ہوئے سادات سے کہا کہ معاہدہ میں یہ بات بالکل واضح اور براہِ راست الفاظ میں درج ہونی چاہیے کہ فلسطینی مقررہ حدود کے اندر اپنی آزاد اور خود مختار حکومت کی تشکیل کا حق رکھتے ہیں۔ اس کے جواب میں سادات نے کہا کہ خود مجھے اس کا احساس ہے اور اس معاملہ کی مزید وضاحت کے لیے میں نے جی کارٹر سے بات چیت بھی کی تھی لیکن انہوں نے کہا کہ اسے یوں ہی رہنے دیا جائے کیونکہ اس کو بدلنے کی صورت میں مجھے اس کی قیمت اپنی کرسی صدارت سے ادا کرنی پڑے گی: 'It would cost me my chair.' السلام الصنائع في اتفاقیات كامب ديفير - محمد إبراهيم كامل وزير خارجية مصر الأسبق - مطبوعات ادارة الشرق الاوسط، صفحه 603 آج انسان کھلے طور پر ایک حق کا اعتراف اس لیے نہیں کرتا کہ اس کے نتیجہ میں وہ دنیا کے وقتی اور محدود اقتدار کی کرسی سے محروم ہو جائے گا۔ حالاں کہ مرنے کے بعد جب انسان یہ دیکھے گا کہ مقتدرِ اعلیٰ کے دربار میں سچائی کی کرسی (مقعد صدق) پر صرف وہی لوگ بٹھائے گئے ہیں، جنہوں نے دنیا میں اعلانِ حق کی خاطر اپنی” کرسی“ کھودی تھی۔ تو وہاں وہ اپنی کرسی اور اپنا سب کچھ قربان کرنے کو تیار ہو جائے گا۔ مگر اس وقت اس کے حصہ میں حسرت و افسوس کے سوا کچھ نہیں آئے گا کیوں کہ آخرت کی کامیابی کے لیے وہی قربانی مطلوب ہے جو دنیا میں پیش کی گئی ہو۔ آخرت کے لیے آخرت میں قربانی کی پیش کش خود اپنے خلاف حجت قائم کرنا ہے۔ یہ انسان کو عذاب کا مستحق بناتا ہے نہ کہ انعام واکرام کا۔ ایک عرب اسکالر نے گفتگو کے دوران بتایا کہ مختلف ملکوں کے بارے میں عالمی سطح پر جو تازہ اعداد وشمار سامنے آئے ہیں، ان میں تمام عرب ممالک کو بلا استثناء علمی اعتبار سے فاقہ زدہ (الدول الجائعۃ علمیاً) قرار دیا گیا ہے۔ جب کہ ان کے مقابلہ میں اسرائیل کو جدید ٹکنالوجی کا حریص ملک (دولة نهمة تكنولوجياً) بتایا گیا ہے۔ یہی فرق ایک لفظ میں عربوں کی ہر محاذ پر مسلسل شکست کا واحد سبب ہے۔ قدیم زمانے میں کہا جاتا تھا جس کی لاٹھی اس کی بھینس۔ آج ”لاٹھی“

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page