سفرنامہ فلسطین
Urdu book, p. 192
By Maulana Wahiduddin Khan
کی جگہ سائنس اور ٹیکنالوجی نے لے لی ہے۔ چنانچہ موجودہ زمانہ میں ”بہینس‘‘ پر براہ راست یا بالواسطہ قبضہ اسی کا ہوتا ہے جس کے پاس سائنس اور ٹیکنالوجی کی طاقت ہے۔ یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ موجودہ زمانہ میں سائنس کو طاقت کی حیثیت حاصل ہو گئی ہے۔ ایسی حالت میں سائنس میں پسماندہ قوم کا بر تر قوم سے جنگ کرنا صرف خود کشی ہے نہ کہ جہاد فی سبیل اللہ۔ ایک یہودی سے گفتگو ہوئی۔ وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ تھا اور عرب زبان اچھی جانتا تھا۔ میں نے پوچھا کہ کہا جاتا ہے کہ آپ لوگ پورے علاقہ پر اسرائیلی حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں جس میں مدینہ اور خیبر بھی شامل ہے۔ اس نے کہا کہ یہ اسرائیل کی کوئی قومی پالیسی نہیں۔ کچھ یہودی انفرادی طور پر اس قسم کی باتیں کرتے ہیں۔ پھر اس نے کہا کہ بالفرض یہودی کا ایسا ہی خیال ہو تب بھی آپ لوگ اس کو اتنا زیادہ اہمیت کیوں دیتے ہیں۔ ہم کو دیکھیے۔ ہم جانتے ہیں کہ الاخوان المسلمون کے لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہمارا نشانہ ساری دنیا میں اسلامی حکومت قائم کرنا ہے (ھدف الاخوان هو اقامة دولة الاسلام العالمية)۔ اس کے مطابق، نہ صرف اسرائیل کو اسلامی حکومت کا جز یہ گزار بنانا ہے بلکہ ہم دنیا کے جس حصہ میں بھی ہوں ہر جگہ ہمیں اسلامی حکومت کا ماتحت بننا پڑے گا۔ مگر ہمیں اس قسم کی باتوں پر کوئی پریشانی نہیں۔ میں نے پوچھا کہ آپ کے پریشان نہ ہونے کی وجہ کیا ہے۔ اس نے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ الاخوان المسلمون مصر میں 1928ء میں قائم ہوئی۔ اس طرح اس کے قیام کو تقریباً ستر سال ہو رہے ہیں۔ ستر سال کے عرصہ میں وہ خود اپنے ملک مصر میں بھی اپنے تصور کی اسلامی حکومت قائم نہ کر سکی۔ پھر اس رفتار سے پوری دنیا کو اسلام کا سیاسی ماتحت بنانے کے لیے تو سات ہزار سال بھی ناکافی ہیں۔ ایسی حالت میں ہم ابھی سے اس کے لیے کیوں پریشان ہوں۔ قرآن میں واقعہ اسراء کے ذکر کے تحت ارشاد ہوا ہے: سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَىٰ بِعَبْدِهِ لَيْلاً مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى الَّذِي بَارَكْنَا حَوْلَهُ لِنُرِيَهُ مِنْ آيَاتِنَا (17:1)۔ یعنی پاک ہے وہ جو لے گیا ایک رات اپنے بندے کو مسجد حرام سے دور کی اس مسجد تک جس کے ماحول کو ہم نے بابرکت بنایا ہے، تا کہ ہم اس کو اپنی کچھ نشانیاں دکھائیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader