سفرنامہ فلسطین
Urdu book, p. 193
By Maulana Wahiduddin Khan
اس آیت میں ۱ ایک سوال یہ ہے کہ لِنُرِيَهُ مِنْ آيَاتِنَا (تاکہ رسول کو ہم اپنی کچھ نشانیاں دکھائیں) سے کیا مراد ہے۔ کچھ لوگوں نے اس کو بار گُنّا سے جوڑا ہے۔ یعنی قدس کے آست پاس کی برکتیں دکھائیں۔ لیکن زیادہ صحیح رائے ان لوگوں کی ہے جنہوں نے اس کو آسْتَری سے جوڑا ہے اور کہا ہے کہ اس سے مراد آپ کو ایک رات میں مکہ سے مسجد اقصیٰ لے جانا ہے جو ایک مہینہ کی مسافت پر واقع ہے (وَإِسْرَاؤُهُ مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى فِي لَيْلَةٍ وَهُوَ مَسِيرَةُ شَهْرٍ)۔ تفسیر القرطبی، جلد 10، صفحہ 212۔ میں نے ایک صاحب سے کہا کہ اس آیت میں ایک اہم سبق تھا۔ مگر موجودہ زمانہ کے مسلم دانش وروں نے اور مسلم علماء نے نہ اس کو سمجھا اور نہ وہ اس کو استعمال کر سکے۔ یہ اسراء دراصل فطرت کے اس عظیم امکان کو دکھانا تھا جس کو ہم تیز رفتار کمیونی کیشن کہتے ہیں۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اس نئے دور کے سرے پر پیدا کیے گئے۔ اس لیے آپ کو مخصوص اہتمام کے تحت اس فطری طاقت کو پیشگی طور پر دکھا دیا گیا تا کہ آپ کی امت اس سے آشنا ہو جائے اور جب یہ امکان اپنی پوری شکل میں ظاہر ہو تو اس کو دین کی خدمت میں استعمال کر سکے۔ مگر موجودہ زمانہ کے مسلم رہنماؤں اور مسلم دانش وروں نے قدس کے سیاسی پہلو کو دیکھا، مگر اس سے وابستہ وسیع تر اور عظیم تر پہلو (جدید کمیونی کیشن) کی حقیقت کو وہ سمجھ نہ سکے۔ یہی وجہ ہے کہ سیاست کی چٹان سے تو وہ نصف صدی سے ٹکرا رہے ہیں مگر کمیونی کیشن کی جدید طاقت کو دین حق کے لیے استعمال کرنا ان کے لیے ممکن نہ ہو سکا۔ پاکستان کے لوگ پاکستان کو ملک خدا داد کہتے ہیں۔ مثلاً لاہور کے ایک اسلامی ماہنامہ (اپریل 1996ء) میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کا قیام اللہ کی ایک آیت اور معجزہ ہے۔ اس کی پشت پر اکابرین ملت کی چار سو برس کی کوششیں ہیں۔ پاکستان خدائی تدبیر کے تحت وجود میں آیا۔ مگر اس کے ساتھ یہ بھی درج ہے کہ پاکستان جو اسلام کے لیے بنا تھا وہ اسلام کو چھوڑ کر سیکولرزم کی طرف بگٹٹ رواں دواں ہے۔ اسی رسالہ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پاکستان مکمل طور پر یہودی نرغہ میں ہے۔ یہودی سازشوں نے اس کا رخ اسلام کے بجائے سیکولرزم کی طرف کر دیا ہے۔ حالاں کہ اس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader