سفرنامہ فلسطین
Urdu book, p. 195
By Maulana Wahiduddin Khan
طرف ایک کتاب اتاری ہے جس میں تمہارا ذکر ہے۔ اس کی تشریح سہل بن عبداللہ نے یہ کی ہے کہ ہم نے تمہارے اوپر قرآن اتارا۔ اس میں وہ عمل بتایا گیا ہے جس میں تمہارے لیے زندگی ہے (الْعَمَلُ بِمَا فِيْهِ حَيَاتُكُمْ )_ تفسیر القرطبی، جلد 11، صفحہ 273۔ ایک صاحب سے گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ اس آیت کے مطابق یقیناً فلسطین کے مسئلے کا حل بھی قرآن میں مذکور ہونا چاہیے۔ پھر میں نے کہا کہ اس معاملے میں واضح رہنمائی قرآن میں موجود ہے، اور وہ یہ آیت ہے : إِنْ يَمْسَسْكُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مِثْلُهُ وَتِلْكَ الْأَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ (3:140)۔ یعنی، اگر تم کو کوئی زخم پہنچے تو دشمن کو بھی ویسا ہی زخم پہنچتا ہے، اور ہم ان ایام کو لوگوں کے درمیان بدلتے رہتے ہیں۔ اس آیت میں اسلامی تاریخ کے اس واقعہ کا ذکر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اور اصحابِ رسول کو بدر کے دن مشرکوں کے اوپر غالب کیا۔ اس کے بعد احد کے دن اللہ نے ان کے دشمنوں کو ان کے اوپر غلبہ دے دیا ( اظھر اللہ عز و جل نبیہ صلی اللہ علیہ و سلم و اصحابہ علی المشرکین یوم بدر و اظهر عليهم عدو هم يوم احد ) تفسیر الطبری، جلد 4، صفحہ 105۔ اس وقت مسلمانوں میں غم اور مایوسی کے جذبات پیدا ہوئے۔ اس کا جواب دیتے ہوئے کہا گیا کہ آخرت کی نعمتیں تو صرف اہلِ ایمان کے لیے ہیں۔ مگر دنیا کا نظام امتحان اور آزمائش کے اصول پر قائم کیا گیا ہے۔ اس لیے یہاں غلبہ اور مغلوبیت کا تجربہ باری باری ہر ایک کو کرایا جائے گا، تا کہ ہر ایک کی ہر پہلو سے آزمائش ہو سکے ۔ وَتِلْكَ الْأَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ وَلِيَعْلَمَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا (3:140) ۔ یعنی اور ہم ان ایام کو لوگوں کے درمیان بدلتے رہتے ہیں، تاکہ اللہ ایمان والوں کو جان لے۔ یہی بات ایک فارسی شاعر نے ان الفاظ میں کہی ہے ۔ دانش مند چڑیا جب جال میں پھنس جائے تو اس کو صبر و تحمل سے کام لینا چاہیے : مرغ زیرک چون بدام افتد تحمل بایدش تحمل کا مطلب سپر اندازی نہیں ہے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جذباتی ردعمل سے بچ کر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader