Urdu book · سفرنامہ اسپین و فلسطین

سفرنامہ فلسطین

Urdu book, p. 196

By Maulana Wahiduddin Khan

صابرانہ منصوبہ بندی کا طریقہ اختیار کیا جائے۔ موجودہ زمانہ میں تمام مسلم دانشور اور رہنما فلسطین کی بازیابی کے مسئلہ کو ملت مسلمہ کا مسئلہ نمبر ایک بتاتے ہیں۔ مگر عین اسی وقت تمام دنیا کے مسلمان باہمی لڑائیوں میں اپنی بہترین طاقت ضائع کر رہے ہیں۔ اس میں متشددانہ جنگ اور غیر متشددانہ جنگ دونوں شامل ہیں۔ مزید ستم یہ ہے کہ ہر ایک اپنے کو خادم دین اور مجاہدِ اسلام سمجھ رہا ہے۔ ایران اور عراق دونوں مسلسل فلسطین کے خلاف پر شور بیان دیتے رہتے ہیں۔ مگر دونوں آٹھ سال (1988-1980ء) تک خوں ریز قسم کی باہمی لڑائی لڑتے رہے۔ اس جنگ کے زمانہ کے ایرانی لیڈر آیت اللہ خمینی کے حامی کہا کرتے تھے کہ قدس کا راستہ بغداد ہو کر جاتا ہے (الطریق الی القدس يمر ببغداد)۔ عین اسی وقت عراقی لیڈر صدام حسین کے حامی بلند بانگ طور پر یہ کہتے تھے کہ قدس کا راستہ تہران ہو کر جاتا ہے (الطریق الی القدس يمر بطهران)۔ دوبارہ صدام حسین نے 1990ء میں کویت پر فوج کشی کر دی۔ اب صدام حسین کے حامی یہ کہنے لگے کہ قدس کا راستہ کویت ہو کر جاتا ہے (الطریق الی القدس يمر بالکویت)۔ اس قسم کے الفاظ فلسطین کے مسئلہ سے دلچسپی کا ثبوت نہیں ہیں، بلکہ صرف مسلم رہنماؤں کی استحصالی ذہنیت کا ثبوت ہیں۔ یہ صرف ان کے جرم میں اضافہ کرتے ہیں، وہ ان کو کسی انعام کا مستحق نہیں بناتے۔ 31 اگست 1995ء کی شام کو واپسی ہوئی۔ یروشلم سے تل ابیب تک کا راستہ بذریعہ کار طے ہوا۔ تل ابیب سے ال آل کی فلائٹ 81 کے ذریعہ روانگی ہوئی۔ تل ابیب پہنچ کر پہلے ہم لوگ شہر میں گئے۔ میں چاہتا تھا کہ تل ابیب پر ایک طائرانہ نظر ڈال لوں۔ یہ ایک ماڈرن شہر ہے۔ یہ میڈیٹرینین کے کنارے واقع ہے اور اسرائیل کا سب سے بڑا شہری مرکز ہے۔ یہ ایک قدیم بستی کو ترقی دے کر 1950ء میں بسایا گیا ہے۔ تل ابیب اور حیفہ اور یروشلم میں اسرائیلی آبادی کا تقریباً 55 فیصد حصہ رہتا ہے۔ ال آل کی ایئر ہاسٹس اخبارات لے آئیں۔ یہ انگریزی اور عبرانی کے اخبارات تھے۔ میرے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page