سفرنامہ فلسطین
Urdu book, p. 197
By Maulana Wahiduddin Khan
قریب بیٹھے ہوئے اسرائیلی تاجر نے عبرانی اخبار لیا۔ اس تقریب سے ان سے عبرانی زبان کے بارے میں گفتگو ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ اسرائیل میں سب سے بڑا عبرانی اخبارایودت (Y`edio) ہے۔ اس کے معنی ہیں تازہ خبریں ۔ اس کے بعد نمبر 2 کا اخبار ماریو (Maariv) ہے۔ عبرانی زبان دائیں سے بائیں کی طرف لکھی جاتی ہے۔ اس کے طرز تحریر کا ایک نمونہ یہ ہے: כּْل הַמַצִיל נֶפְשׂ אַחַת מִיִשְׂרָאֵל, כְּאִילוּ הִצִיל עוֹלָם מَلֵא. Kol hamatzil nefesh achât mi'Yisra'êl, ke'ilu hitsil olâm malê. Whoever saves a single life is as if he had saved an entire universe. مذکورہ تاجر سے میں نے پوچھا کہ عبرانی تو ایک مردہ زبان تھی۔ پھر اتنی کم مدت میں وہ اسرائیل کی ایک زندہ قومی زبان کس طرح بن گئی۔ اس نے کہا کہ عبرانی اگرچہ ہمارے یہاں عام استعمال میں نہیں تھی ۔ مگر عام طور پر لوگ عبرانی کو سمجھتے تھے۔ کیوں کہ دعا اور عبادت میں وہ اس کو روزانہ استعمال کرتے تھے۔ چنانچہ جب اس کو قومی زبان بنانے کا فیصلہ کیا گیا تو آسانی سے عبرانی زبان قومی زبان کے طور پر رائج ہوگئی اور یہ صرف ایک شخص کی کوششوں سے ہوا۔ پاکستان میں کچھ رہنماؤں نے چاہا کہ عربی زبان وہاں کی قومی زبان بن جائے۔ مگر وہ کامیاب نہیں ہوئے۔ حالاں کہ پاکستان میں بھی تمام مسلمان عربی کو دعا اور عبادت کے لیے استعمال کر رہے تھے۔ اس فرق کا سبب یہ ہے کہ یہودیوں کو صرف عبرانی کے الفاظ نہیں رٹائے جاتے تھے بلکہ اس کا مطلب بھی انہیں پڑھایا گیا تھا۔ پاکستان کے مسلمانوں کو صرف عربی کے الفاظ یاد کرائے گئے تھے، اس کے مفہوم سے وہ نا آشنا تھے۔ دوران پرواز اسرائیلی ایئر لائنز (EI AI) کا میگزین بابت جولائی۔ اگست 1995ء دیکھا۔ اس میں کثرت سے مکانات کے اشتہار تھے۔ مختلف کمپنیوں کے بنائے ہوئے مکانات کی خوب

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader