Urdu book · سفرنامہ اسپین و فلسطین

سفرنامہ فلسطین

Urdu book, p. 198

By Maulana Wahiduddin Khan

صورت تصویریں اور ان کے نیچے اس طرح کے خوش کن الفاظ لکھے ہوئے تھے: Your dream home in Israel یا یہ کہ اس خوبصورت کامپلیکس میں اپنے لیے ایک اپارٹمنٹ حاصل کیجیے اور دنیا کی جنت میں رہنے کا لطف اٹھائیے۔ میں نے ایک اسرائیلی مسافر کو یہ اشتہارات دکھا کر اس کا تاثر پوچھا۔ اس نے کہا کہ ہم نے خوبصورت قسم کے رہائشی مکانات تو ضرور بنا لیے ہیں، مگر ایک نامعلوم خوف ہر یہودی کے دماغ میں ہوتا ہے کہ کیا معلوم، کب کہاں ایک بم پھٹ جائے۔ میں نے سوچا کہ موجودہ دنیا میں پرمسرت زندگی ممکن ہی نہیں۔ یہاں ہر حال میں کوئی نہ کوئی حزن لگا رہتا ہے۔ اس لیے حقیقی معنوں میں پر مسرت زندگی صرف آخرت کی جنت ہی میں ممکن ہے جہاں خدا اپنی برتر طاقت سے حزن کو حذف کر دے گا ــــ أَذْهَبَ عَنَّا الْحَزَنَ (35:34)۔ بمبئی ایر پورٹ پر مسز سوزن جیکب (Ms Susan Jacob) نے پریشان کیا تھا۔ اس کے بعد اسرائیلی کمپنی کا ایک نوجوان آیا۔ اس نے اپنا نام نیویل مستری (Naville Mistry) بتایا۔ اس نے مزید بتایا کہ اس کا باپ پارسی ہے اور اس کی ماں کیتھولک عیسائی ہے، ماں کے اثر سے لڑکا بھی عیسائی ہو گیا ہے۔ اس نوجوان نے ایئر پورٹ پر میری رہنمائی کی۔ اس نے میرا بیگ اصرار کر کے اپنے ہاتھ میں لے لیا اور مجھ کو آخری گیٹ تک پہنچایا۔ سفر سے واپسی کے بعد مولانا انیس لقمان ندوی کا خط (8 جولائی 1996ء) ملا۔ وہ آج کل ابوظہبی میں مقیم ہیں۔ یہ خط فلسطین کے مسئلہ سے متعلق ہے، اس لیے اس کو یہاں نقل کیا جاتا ہے: ابوظہبی میں قیام کے دوران پچھلے چھ مہینوں میں سو سے زیادہ عربوں سے ملاقات ہوئی۔ جن میں مقامی باشندوں کے علاوہ مصر، فلسطین، شام اور دیگر ملکوں سے آئے ہوئے (وافدین) بھی شامل ہیں۔ ان کے ساتھ جن موضوعات پر گفتگو ہوتی رہی ان میں مسئلہ فلسطین سر فہرست ہے۔ جس شخص نے بھی عربی جرائد ومجلات اور عالم عرب میں چھپنے والی جدید کتابوں کا مطالعہ کیا ہے وہ جانتا ہے کہ فلسطین پر یہود کا قبضہ عرب دنیا کا واحد سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ اب تک میرا احساس یہ تھا کہ قبلۂ اول (بیت المقدس) کو اسلام میں جو مقام حاصل ہے اس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page