Urdu book · سفرنامہ اسپین و فلسطین

سفرنامہ فلسطین

Urdu book, p. 199

By Maulana Wahiduddin Khan

نے فلسطین کو اتنا زیادہ اہم اور سنگین مسئلہ بنا دیا ہے۔ بلکہ فلسطین کے مسئلہ پر بولنے اور لکھنے والا ہر شخص خواہ وہ عرب ہو یا غیر عرب عام طور پر یہی سمجھتا ہے کہ آزادیٔ فلسطین کے لیے عربوں کے مجاہدانہ جوش وخروش کا اصل محرک دینی اور اسلامی ہے۔ مگر عربوں کے ساتھ رہنے اور قریب سے ان کی نفسیات اور مزاج کا تجزیہ کرنے کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ’’جہادِ فلسطین‘‘ کا حقیقی محرک دینی حمیت یا اسلامی غیرت سے زیادہ عربوں کی قومی نخوت اور نسلی تفاخر ہے۔ مسئلہ فلسطین غالباً واحد مسئلہ ہے جس کے بارے میں عرب دنیا کا تقریباً ہر شخص حساس ہے۔ بلکہ یہی ایک معاملہ ایسا ہے جس میں وہاں کا سیکولر اور اسلام پسند طبقہ دونوں ایک دوسرے کا ہمنوا ہے۔ حالاں کہ دوسرے تمام معاملات میں ان کا حال یہ ہے کہ پہلا گروہ دوسرے کو انتہا پسندی اور دہشت گردی کا الزام دیتا ہے تو دوسرا گروہ پہلے کو کافر اور ملحد قرار دیتا ہے۔ اگر آزادیٔ فلسطین کا اصل محرک اسلامی غیرت وحمیت کو قرار دیا جائے تو پھر اس واقعہ کی توجیہ ناممکن ہو جاتی ہے کہ کیوں ایسے لوگ ہی اس’’جہاد‘‘ میں اسلام پسندوں کے شانہ بشانہ شریک ہیں جنہیں یہ کافر اور ملحد سمجھتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ حسن البناء اور شاہ فیصل کی طرح عرب حکام اور عوام دونوں کے درمیان ایک تعداد ایسے افراد کی پائی جاتی ہے جن کے لیے فلسطین پر یہودی قبضہ ان کی دینی غیرت کو چیلنج ہے اور فلسطین کی بازیابی کے لیے کوشش کرنا ایک اسلامی ذمہ داری۔ مگر عربوں کی اکثریت کے لیے یہ حقیقتاً عرب قومیت (العروبۃ) کو چیلنج کرنے کا مسئلہ ہے۔ یہ بات ان کے لیے حد درجہ ناقابل برداشت ہے کہ یہود، جو تعداد میں انتہائی قلیل ہیں اور سینکڑوں برس تک ان کے محکوم رہے ہیں، وہ ان کے اپنے ایک ملک پر اس طرح قابض ہو جائیں کہ بقیہ ممالک کے لیے ان کا وجود خطرہ بن جائے۔ عربوں کی قومی نخوت اس کا تحمّل نہیں کرسکتی کہ وہ یہودی کے مقابلہ میں پست ثابت ہوں یا یہودان کے پڑوس میں ان کے ہم سطح اور ہمسکر کی حیثیت سے آزادانہ زندگی گزاریں۔ ایک لفظ میں یہ کہ اصل مسئلہ یہودی نسل پرستی (صیہونیت) کے بالمقابل عرب قومیت (العروبۃ) کی بالادستی کے درمیان کشمکش کا مسئلہ ہے۔ چونکہ تقریباً ڈیڑھ ہزار برس تک یہود کے اوپر عرب کا غلبہ اور تسلط رہا ہے۔ اس صدی کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page