Urdu book · سفرنامہ اسپین و فلسطین

سفرنامہ فلسطین

Urdu book, p. 200

By Maulana Wahiduddin Khan

نصف اول تک عرب دنیا میں یہود کی حالت کم وبیش وہی تھی جو قرآن کے ان الفاظ میں بیان ہوئی ہے کہ’’حَتّٰي يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَدٍ وَهُمْ صَاغِرُونَ‘‘ (9:29)۔یعنی، یہاں تک کہ وہ اپنے ہاتھ سے جزیہ دیں اور چھوٹے بن کر رہیں۔ مگر جب حالات بدلے اور نئے دور میں طاقت اور غلبہ کے جدید وسائل کو بروقت استعمال کر کے یہود نے داخلی طور پر اپنے آپ کو مستحکم کر لیا۔ جب کہ عرب دنیا ایسا کرنے میں ناکام رہی اور بالآخر یہود فلسطین کے اوپر قابض ہو کر عربوں کے لیے مستقل خطرہ بن گئے تو نہایت شدت کے ساتھ ان کے قومی جذبات بھڑک اٹھے۔ ذہنی اور نفسیاتی طور پر وہ سخت تناؤ اور جھنجھلاہٹ اور احساس کمتری کا شکار ہوگئے۔ اسی جھنجھلاہٹ اور احساس کمتری کو دور کرنے کے لیے وہ ایک طرف اپنے عظیم ماضی کا تذکرہ کرتے ہیں اور دوسری طرف یہود کو احفاد القردة والخنازير (بندر اور خنزیر کی اولاد) اور اسی طرح کے دوسرے حقارت آمیز ناموں سے پکارتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ وہ یہود کو اپنے ماضی کے آئینہ میں دیکھ کر یہ جھوٹی تسکین حاصل کرتے ہیں کہ ہمیں ان کے اوپر برتری اور بالا دستی حاصل رہی ہے۔ مگر وہ اپنے حال کا تقابل یہود کے حال سے نہیں کرتے۔ کیوں کہ ایسا کرنے میں ان کے اندر جھنجھلاہٹ طاری ہو جاتی ہے۔ ان کی قومی نخوت اس واقعہ کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں کہ ان کی غفلت اور دوسروں کی زمانہ شناسی کے نتیجہ میں احفاد القردة و الخنازير کہیں براہ راست ان کے اوپر غالب ہیں اور کہیں بالواسطہ طور پر مسلط ہیں۔ آج کل عرب دنیا کی اسلامی تنظیموں خصوصاً آزادی فلسطین کے لیے سرگرم تنظیم حركة المقاومة الاسلامية (حماس) میں ایک نیا رجحان ابھر رہا ہے۔ وہ یہ کہ اس تنظیم کے افراد اپنے جسم پر بم باندھ کر دشمن کے کسی ٹھکانے یا کسی اہم سرکاری یا عسکری اہمیت کے حامل دفتر میں کود پڑتے ہیں، ان کے جسم سے بندھا بم جب پھٹتا ہے تو وہ خود تو ہلاک ہوتے ہی ہیں مگر اپنے ساتھ دشمن کے بھی بہت سے افراد اور املاک کو تباہ کر دیتے ہیں۔ عام آدمی اگر ایسا عمل کرے تو اسے خودکشی کہا جائے گا۔ مگر بعض مسلم علماء حماس کے اس عمل کو خودکشی (عملیة انتحاریة) کے بجائے شہادت طلبی (عملیة استشهادیة) کہہ رہے ہیں۔ اس سلسلہ میں ڈاکٹر یوسف القرضاوی کا ایک مفصل مقالہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page