سفرنامہ اسپین
Urdu book, p. 26
By Maulana Wahiduddin Khan
رات کو دوبارہ ہم لوگ اپنے ہوٹل میں واپس پہنچادیئے گئے۔ 28 نومبر کو افتتاحی اجلاس میں میڈرز کے میٹر کے علاوہ ایک اسپینی یہودی اور ایک اسپینی عیسائی کی تقریب ہوئی۔ اس کے بعد ایک صاحب کھڑے ہوئے جن کا نام مسٹر تمارال بتایا گیا تھا۔ ان کے چہرے پر ہلکی داڑھی تھی اور بظاہر نہایت سنجیدہ معلوم ہوتے تھے۔ انہوں نے بسم اللہ الرحمن الرحیم کہا اور اس کے بعد اسپینی زبان میں اپنی تقریر کی۔ ان کی شخصیت کے بارے میں مجھے تجسس تھا۔ بعد کو ملا تو پتہ چلا کہ وہ ایک اسپینی مسلمان ہیں۔ وہ تھوڑی عربی اور تھوڑی انگریزی جانتے تھے، اس لیے ان سے گفتگو ممکن ہوسکی۔ انہوں نے بتایا کہ ان کا اصل خاندانی نام فضل اللہ ہے۔ موجودہ نام ان کے اصل عربی نام کا اسپینی ترجمہ ہے۔ انہوں نے اپنا مکمل پتہ دیا جو اس طرح ہے: Julio Torralbo Tamaral, Psicicologia Clinia Escolar Collegiado N. 1911 CPM, Madrid (Tel. 96-5141433) غرناطہ کی مسلم سلطنت کے خاتمہ کے بعد جب اسپینی مسلمانوں کی پکڑ دھکڑ شروع ہوئی اور ان کو یہاں سے نکالا جانے لگا تو بہت سے لوگوں نے اپنے نام بدل لیے، تاکہ وہ یہاں رہ سکیں۔ اس طرح کے بہت سے خاندان ابھی تک اسپین میں پائے جاتے ہیں۔ البتہ اب حالات بدل چکے ہیں۔ اس لیے ایسے مسلمان اب چھپ کر نہیں رہتے۔ بلکہ وہ اعلان کے ساتھ رہتے ہیں۔ اس کی ایک مثال خود فضل اللہ صاحب ہیں۔ موجودہ کانفرنس جو ایک حکومتی ادارہ کی طرف سے کی گئی تھی، اس میں ان کو اسلام کے اسپینی نمائندہ کی حیثیت سے بولنے کا موقع دیا گیا۔ کانفرنس کے موقع پر میں نے انگریزی میں ایک پیپر پیش کیا۔ اس کا عنوان تھا: ’امن اسلام میں‘ (Peace in Islam)۔ یہ مضمون الرسالہ انگریزی مئی۔ جون 1996 میں شائع ہو چکا ہے۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ اسلام امن کا مذہب ہے۔ اسلام کی تمام تعلیمات امن کے تصور پر مبنی ہیں۔ اسلام میں جنگ صرف ناگزیر دفاع کے لیے جائز ہے، کسی اور مقصد کے لیے اسلام میں جنگ کی اجازت نہیں۔ اس پیپر کے علاوہ مختلف مواقع پر میں نے اسلام کے امن اور رحمت اور انسانیت کے تصور کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader