Urdu book · سفرنامہ اسپین و فلسطین

سفرنامہ اسپین

Urdu book, p. 28

By Maulana Wahiduddin Khan

بارہویں صدی کے بعد اسلامی فلسفے کی ترقی رک گئی۔ اس کے بعد کوئی بڑا مسلم فلسفی پیدا نہیں ہوا۔ اس کا سبب آخر کیا ہے۔ میں نے کہا کہ جہاں تک میرا خیال ہے، یہ زمانی تبدیلی کا معاملہ ہے۔ قدیم معنی میں جس چیز کو اسلامی فلسفہ کہا جاتا ہے، اس کی تشکیل اس زمانہ میں ہوئی جب کہ دنیا میں یونان کی قیاسی منطق کا غلبہ تھا۔ مسلم فلسفیوں نے اس میں مہارت پیدا کی اور اس کی بنیاد پر اپنا فلسفہ مرتب کیا۔ مگر سائنسی انقلاب کے بعد یہ منطق ختم ہوگئی۔ اب سائنسی منطق کا دور آ گیا۔ مگر مسلم ذہن سائنسی منطق میں مہارت نہ پیدا کر سکے، اس لیے وہ جدید علم کی بنیاد پر اسلامی فلسفہ (جدید علم کلام) بھی تشکیل نہ دے سکے۔ میں نے کہا کہ دور اول میں جب مسلمانوں کا مقابلہ یونانی منطق سے پیش آیا تو وہ فاتح کی نفسیات میں جی رہے تھے۔ انہوں نے بڑھ کر یونانی منطق کو سیکھا اور اس میں مہارت حاصل کی۔ اس طرح وہ اس قابل ہو گئے کہ یونانی منطق کو اسلامائز کریں اور اس کی بنیاد پر ایک طاقتور علم کلام پیدا کر سکیں ۔ مگر موجودہ دور میں جب سائنسی منطق کا زمانہ آیا تو مسلمان دوسری قوموں کے مقابلہ میں مفتوح اور مغلوب بن چکے تھے۔ چنانچہ ان میں اقدام کے بجائے تحفظ کا مزاج پیدا ہو گیا تھا۔ اس شکست خوردہ نفسیات کی بنا پر مسلم دانشور نئے علوم کو شک کی نظر سے دیکھتے رہے، وہ آگے بڑھ کر ان سے واقف ہونے اور ان کو استعمال کرنے کا حوصلہ نہ کر سکے۔ ایک مسلم اسکالر نے کہا کہ مسلم دور میں قرطبہ کی لائبریری میں چار لاکھ (400,000) کتابیں تھیں ۔ جب کہ اس وقت سارے یورپ کی تمام لائبریریوں میں بھی اتنی کتابیں موجود نہیں تھیں ۔ میں نے کہا کہ اس قسم کی باتیں کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ۔ یہ باتیں صرف جھوٹا فخر پیدا کرتی ہیں۔ آج ضرورت یہ ہے کہ مسلمان وقت کو سمجھیں اور اپنے پچھڑے پن کو دور کرنے کے لیے محنت کریں۔ ہمیں ماضی کے علمی کارناموں پر فخر کرنے کے بجائے یہ کرنا چاہیے کہ ہم محنت کر کے آج کے علم انسانی میں اضافہ کریں۔ اسرائیل سے بہت سے یہودی نیز عیسائی افراد یہاں آئے تھے۔ ان لوگوں سے میں معلوماتی انداز کی گفتگو کرتا رہا۔ ان میں ایک آوی شاکیت (Avi Shoket) تھے۔ ان کا تعلق فارن افیئرس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page